صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 646 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 646

البخارى- جلد ا ۶۴۶ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اونچے ہونگے ؛ دیر تک دھوپ ان کے اندر رہے گی اور جتنے چھوٹے ہونگے اتنی جلدی دھوپ اُن کے اندر سے غائب ہو جائے گی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کے گھر چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیاں تھیں۔عصر کی نماز پڑھنے کے بعد اُن کے اندر دھوپ کے موجود ہونے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی سورج اتنا اونچا ہوتا کہ دھوپ کمرے کے اندر آخری حد تک رہتی۔(فتح البارى الجزء الثاني۔صفحه ۳۴- ۳۵)، (عمدة القارى الجزء الخامس۔صفحه ۳۳ - ۳۴) اگر چہ اس استدلال کی تائید روایت نمبر ۵۵۰ سے بالصراحت ہوتی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حيَّة۔یعنی سورج اونچا اور خوب روشن ہوتا۔مگر میرا خیال ہے کہ یہ باب صرف اس قدر ظاہر کرنے کے لیے باندھا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عصر کی نماز کے وقت کا بھی ایک معین اندازہ تھا جس میں آپ یہ نماز پڑھا کرتے تھے اور اس اندازے کا اظہار حضرت عائشہ اپنے حجرے میں دھوپ کے ہونے سے کرتی ہیں۔پہلی روایت کے الفاظ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجُ مِنْ حُجُرَتِھا سے پتہ چلتا ہے کہ سورج ڈھلنے پر دھوپ آپ کی کوٹھڑی میں داخل ہوتی اور بڑھتے بڑھتے آخری حد تک پہنچنے کے بعد ابھی سایہ باہر نہ نکلتا کہ نماز عصر پڑھ لی جاتی۔اس باب کی دوسری اور تیسری روایت کے الفاظ لَمْ يَظْهَرِ الف سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت سایہ باہر نکل کر دیوار پر نہ چڑھتا۔دوسرا اندازہ مسافت کے ذریعہ سے کیا گیا ہے۔نماز پڑھ کر صحابہ مدینہ کے مضافات میں جاتے اور ابھی سورج روشن ہوتا اور اس میں زردی نمودار نہ ہوتی۔تیسرا اندازہ روایت نمبر ۵۴۹ میں ایک قیاس کی صورت میں پیش کیا گیا ہے یعنی حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں ظہر ایسے وقت میں پڑھی جاتی تھی کہ در حقیقت وہ عصر کا وقت ہوتا۔ان روایت شدہ اندازوں میں سے جو اندازہ سند کے اعتبار سے امام بخاری کی شرائط کے مطابق ہے وہ وہ اندازہ ہے جس کا ذکر انہوں نے روایت نمبر ۵۵۱۵۵۰ میں کیا ہے یعنی مسافت کا۔نماز عصر پڑھ کر انسان اپنے گھر کو جاتا جو تین چار میل کے فاصلہ پر ہوتا اور وہاں ایسے وقت پہنچتا کہ سورج ابھی اونچا ہوتا۔ان روایتوں سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ عصر کی نماز جلد پڑھی جاتی۔مسجد قباء بھی مدینہ سے ایک کوس تھی اور مدینہ کے ارد گرد کی آبادی کچھ نجد کی طرف ہے جو بلندی پر ہے، اسے عوالی کہتے ہیں اور کچھ تہامہ کی طرف ہے جو نیچے کی جانب ہے اسے سافلہ یعنی بیٹ کہتے ہیں۔قریب سے قریب بستی کا فاصلہ مدینہ مہ مادہ بینہ سے دو میل اور دور سے دور چھ میل ہے (فتح البارى الجزء الثاني۔صفحه ۳۹) (عمدة القارى الجزء الخامس۔صفحه ۳۷) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قریب کی بستیوں کے رہنے والے تھے۔علامہ ابن حجر اور مینی ” کا یہ خیال ہے کہ امام بخاری کو یا تو وہ روایتیں نہیں پہنچیں جن سے عصر کے ابتدائی وقت کا یہ اندازہ کیا گیا ہے کہ جب کسی چیز کا سایہ اتنا یا اس سے دو گنا ہو جائے یا اگر وہ روایتیں ان کو پہنچی ہیں تو بوجہ اپنی شرطوں کے مطابق نہ پانے کے انہوں نے وہ رڈ کر دی ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۵-۳۶) (عمدۃ القاری جزء خامس صفحه ۳۳ ) روایت نمبر ۵۷۴ میں عصر کو ٹھنڈے وقت کی نماز سے تعبیر کیا گیا ہے۔ہمارے ملک میں گرمی کے موسم میں پانچ بجے تک شدت کی گرمی کم ہو کر فضا میں خنکی پیدا ہو جاتی ہے اور سایہ بھی اس وقت دو گنا ہو جاتا ہے اور موسم سرما میں چار بجے فضا میں ٹھنڈک پیدا ہو جاتی ہے۔ان دونوں وقتوں میں آدمی نماز پڑھ کر دو تین میل کا فاصلہ سورج غروب ہونے سے پہلے طے کر سکتا ہے۔