صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 1 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 1

صحيح البخاری جلد ا بالا كتابُ بَدْءِ الْوَحْى 0000000 0000 قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْحَافِظُ ا - كتاب بدء الوحي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آمِيْن کہا: شیخ امام حافظ ابوعبد الله محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ نے جو بخارا کے رہنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔آمین بَابِ : كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْوَحْيِ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی وَقَوْلُ اللهِ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ اور الله جل ذرہ کا یہ فرمانا کہ ہم نے تیری طرف اسی كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ طرح وحی کی ہے جس طرح حضرت نوح “ اور ان انبیاء کی طرف وحی کی تھی جو حضرت نوح کے بعد بَعْدِهِ۔(النساء: ١٦٤) تشریح: ہوئے۔إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ: امام بخاری كَيْفَ بَدْءُ الْوَحْی کے متعلق جو آیت لائے ہیں۔اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ جس وجی سے متعلق وہ حدیثیں لائیں گے ، وہ وحی نبوت ہے نہ کوئی اور۔کیونکہ قرآن مجید سے اور نیز احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وحی کی کئی قسمیں ہیں۔ایک وحی" جمادات مثلاً زمین کے لیے۔( الزلزال :۶ ) اور آسمان کو (حم السجدۃ:۱۳) ایک وحی حیوانات جیسے شہد کی مکھی کو ہوتی ہے۔(النحل: ۶۹) ایک وحی صالحین کو ہوتی ہے جیسے حواریوں کو ہوئی۔(المائدۃ:۱۲) اور حضرت موسی کی ماں کو بھی ہوئی۔(القصص: ۸) وحی کا لفظ قرآن مجید میں بعض جگہ محض اشارہ کے معنوں میں بھی آیا ہے (الانعام:۱۲۲) ابواب کے اعداد لکھنے کی صورت میں یہ جائز ہے کہ لفظ ”باب بغیر اعراب کے لکھا جائے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ )