صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 1
صحيح البخاري - جلد ) باس الحالة ا - كتاب بدء الوحي كتابُ بَدْءِ الْوَحْى 00000000000000 قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى آمِيْن کہا: شیخ امام حافظ ابو عبد الله محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ نے جو بخارا کے رہنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔ آمین بَابٌ : كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْوَحْيِ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی وَقَوْلُ اللهِ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ اور الله جل ذکرہ کا یہ فرمانا کہ ہم نے تیری طرف اسی كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ طرح وحی کی ہے جس طرح حضرت نوح " اور ان انبیاء کی طرف وحی کی تھی جو حضرت نوح کے بعد بَعْدِهِ۔ (النساء: ١٦٤) ہوئے۔ تشريح : إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ: امام بخاری كَيْفَ بَدَءُ الْوَحْی کے متعلق جو آیت لائے ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ جس وحی کے متعلق وہ حدیثیں لائیں گے، وہ وحی نبوت ہے نہ کوئی اور ۔ کیونکہ قرآن مجید سے اور نیز احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وحی کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک وحی، جمادات مثلاً زمین کے لیے۔ (الزلزال:۶) اور آسمان کو ( حم السجدۃ:۱۳) ایک وحی حیوانات جیسے شہد کی مکھی کو ہوتی ہے۔ (النحل : ۲۹) ایک وحی صالحین کو ہوتی ہے جیسے حواریوں کو ہوئی۔ (المائدۃ:۱۱۲) اور حضرت موسی کی ماں کو بھی ہوئی۔ (القصص: (۸) وحی کا لفظ قرآن مجید میں بعض جگہ محض اشارہ کے معنوں میں بھی آیا ہے (الانعام : ۱۲۲) ابواب کے اعداد لکھنے کی صورت میں یہ جائز ہے کہ لفظ ”باب بغیر اعراب کے لکھا جائے ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۰)