صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 620 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 620

البخاری جلد ا ۶۲۰ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة سورج ڈھلنے سے لے کر اُس کے ڈوبنے تک کو بھی عشیا کہتے ہیں۔نماز صبح عصر کی تصریح اس آیت میں بھی کی گئی ہے: سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ ( :۴۰) علاوہ ازیں پانچوں اوقات کا ذکر سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ۷۹ میں بھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ، إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُو دان سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی گہری تاریکی تک نماز قائم کر اور صبح کے وقت قرآن پڑھنے کو بھی لازم رکھ کیونکہ صبح کو قرآن پڑھنا مقبول ہوتا ہے۔دُلُوكِ الشَّمْسِ : (سورج ڈھلنے ) سے مراد ظہر کا وقت۔ڈلوک کے معنی زرد پڑ جانے کے بھی ہیں یعنی عصر کا وقت۔دلوک کے معنی غروب کے بھی ہیں یعنی شام کا وقت۔غسق سے مراد ابتدائی تاریکی بھی ہے یعنی شام کی اور گہری تاریکی بھی یعنی عشاء کا وقت۔اور قُرانَ الفجر سے مراد صبح کی نماز۔روایت مذکورہ بالا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اوقات نماز میں سے ہر وقت نماز کی تعین علیحدہ علیحدہ جبرائیلی تجلی کے تحت ہوئی ہے اور یہ تعین کہ کونسا حصہ وقت کب شروع اور ختم ہوتا ہے اس کا بھی ذکر ضمنا قرآن مجید میں ہے۔مثلاً تہجد اور فجر کا تعین آیت حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الا بيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (البقرة: ۱۸۸) سے ظاہر ہے۔ظہر کا تعین سورج ڈھلنے سے۔عصر کا تعین سورج کی روشنی میں زردی ظاہر ہونے سے۔وحی متلو کا مفہوم جبرائیل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے عملا ایسا واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی شبہ اور ابہام کی گنجائش باقی نہیں رہی۔عمر بن عبد العزیز جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے جلیل القدر تابعین میں سے ہیں اور اپنے زمانہ کے مجدد بھی مانے گئے ہیں۔ان کا عروہ بن زبیر سے یہ کہنا: اِعْلَمُ مَا تُحدِث به * جو بات تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں علم حاصل کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے نزدیک اوقات مقررہ میں سے کسی وقت کے ابتدائی یا درمیانی یا آخری حصوں میں تعمیل حکم کی رو سے کوئی فرق نہیں۔ظہر کی نماز خواہ ایک بجے یا دو بجے یا تین بجے پڑھی جائے، حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے۔عروہ نے بشیر بن ابی مسعود کی روایت سے استدلال چھوڑ کر حضرت عائشہ کا جو حوالہ دیا ہے اس سے نماز عصر کے وقت کی آخری حد بتانا مقصود ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہوتی ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمۃ نے جیسا کہ دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے عصر کی نماز میں دیر کر دی تھی۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ 4) عروہ بن زبیر کی محولہ بالا روایت سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ اگر چہ مسئلہ زیر بحث ایک زمانہ میں اختلافی تھا۔مگر صحابہ کرام ان اوقات کی خصوصیت سے پابندی کیا کرتے تھے جن اوقات میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا اور وہ یقین رکھتے تھے کہ ان اوقات کی تعیین جبرائیلی تجلی کے تحت مکہ مکرمہ میں ہی ہو گئی تھی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل روح القدس کی تجلی کے تحت تھا۔یہاں تک کہ آپ کا بھولنا بھی۔(تفصیلی بحث کے لیے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۲ تا ۱۲۶) پس بظاہر کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ مسنونہ اوقات کو یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(دیکھئے فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۵)