صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 619 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 619

ری جلد ا ۶۱۹ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّی نے بھی نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی۔پھر انہوں وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِهَذَا نماز پڑھی۔پھر جبرائیل نے کہا: اس کا مجھے حکم دیا گیا أُمِرْتُ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ اعْلَمْ مَّا ہے۔اس پر عمر بن عبد العزیز) نے عروہ سے کہا: جو تُحَدِّثُ أَوَ إِنَّ جِبْرِيْلَ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ بات آپ بیان کرتے ہیں تحقیق کر لیں۔کیا جبرائیل اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کے الصَّلَاةِ قَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ اوقات مقرر کئے تھے؟ عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود ابْنُ أَبِي مَسْعُوْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيْهِ۔اسی طرح اپنے باپ سے روایت کرتے تھے۔اطرافه: ۳۲۲۱، ٤۰۰۷۔٥٢٢ : قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي ۵۲۲: عروہ نے کہا: حضرت عائشہ نے بھی مجھے بتایا عَائِشَةُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کرتے وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ تھے اور ابھی دھوپ آپ کی کوٹھڑی میں ہوتی۔یعنی فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ۔اطرافه ٥٤٤، ٥٤٥، ٥٤٦، 3103 پیشتر اس کے کہ وہ دیوار پر چڑھتی۔تشریح: مَوَاقِيْتُ الصَّلوةِ وَفَضْلُهَا : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ عنوان باب میں مذکورہ بالا آیت کا حوالہ دے کر روایت نمبر ۵۲۱ سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نمازوں کے اوقات کی تعیین جبرائیلی تجلی کے تحت ہوئی تھی۔دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلتہ الاسراء کے دوسرے روز سورج ڈھلنے پر جبرائیل نازل ہوئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔(دیکھئے فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۷ ) لیٹ کی روایت میں ( جو آگے آئے گی ) یہ الفاظ ہیں : نَزَلَ جِبْرِيلُ فَامَّنِى فَصَلَّيْتُ مَعَهُ۔كتاب بدء الخلق۔باب ذكر الملائكة۔روایت نمبر ۳۲۲۱) قرآن مجید میں بھی کئی جگہ اوقات مسنونہ کا ذکر کیا گیا ہے۔سورہ روم میں جو مکی سورتوں میں سے ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَسُبحَنَ اللهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ عَشِيًّا وَّ حِيْنَ تُظْهِرُونَ ) (الروم : ۱۸-۱۹) یعنی اللہ کی تسبیح کرنی ہوگی اس وقت جب شام ہو اور جب تم صبح کے وقت اُٹھو اور اُسی کی ستائش ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور دن کے آخری حصے میں بھی اور اس وقت بھی جب ظہر ہو۔عَشِيًّا دن کا آخری حصہ۔