صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 621
البخاری جلد ا ۶۲۱ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة مقدم نہ کیا جائے۔جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری سمجھا وہاں خود اپنے قول اور عمل سے وسعت اور سہولت دی ہے۔اس کی تفصیل آئندہ بابوں میں آئے گی۔عمر بن عبد العزیز کے متعلق مشہور ہے کہ پھر انہوں نے کبھی کسی نماز میں دیر نہیں کی اور یہ روایت ملحوظ رکھی۔(دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحه ۹) جس زمانہ کا یہ واقعہ ہے اس وقت وہ ولید بن عبد الملک کی طرف سے مدینہ کے امیر تھے اور حضرت مغیرہ بن شعبہ امیر معاویہ کی طرف سے عراق کے امیر۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶) بَاب ۲ : مُنِيْبِيْنَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَأَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (الروم : ۳۲) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اُسی کی طرف جھکتے ہوئے اور تم اس کو سپر بناؤ اور نماز سنوار کر ادا کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو ٥٢٣ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيْدٍ قَالَ :۵۲۳ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا ، کہا: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِي عباد نے جو عباد کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔انہوں نے جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ ابو جمرہ سے۔ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا۔کہتے تھے کہ عبد القیس الْقَيْسِ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَيِّ انہوں نے کہا کہ ہم اس ربیعہ قبیلے سے ہیں اور ہم مِنْ رَّبِيعَةَ وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي آپ کے پاس محرم کے مہینہ میں ہی پہنچ سکتے ہیں۔الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَّأْخُذُهُ آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیجئے کہ جو ہم آپ سے سیکھ لیں اور ہم ان لوگوں کو بھی اس کی طرف بلائیں جو عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَّرَاءَ نَا فَقَالَ ہمارے پیچھے ہیں۔آپ نے فرمایا: میں تم کو چار آمُرُكُمْ بِأَرْبَعِ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔الْإِيْمَانِ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ الله تعالیٰ پر ایمان لانے کا۔پھر آپ نے ان سے کھول کر بیان کیا کہ اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ تعالیٰ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَيَّ اور نماز ہمیشہ سنوار کر ادا کرنا اور زکوۃ دینا۔اور یہ کہ جو