صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 618
صحيح البخاری جلد ا ۶۱۸ بايليه العالم ۹ - كتاب مواقيت الصلوة كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلوةِ 00000000000000 بَاب ۱ : مَوَاقِيْتُ الصَّلَاةِ وَفَضْلُهَا نماز کے اوقات اور اس کی فضیلت وَقَوْلُهُ تَعَالَى إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَی اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ نماز مومنوں کے لیے ایسا الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوْتًا (النساء: ١٠٤) فرض ہے جو وقت کے ساتھ وابستہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا ہے کہ پابندی اوقات کی مُوَقَّتًا وَقَتَهُ عَلَيْهِمْ۔ جائے۔ ٥٢١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۵۲۱ عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ میں نے مالک کو پڑھ کر سنایا کہ ابن شہاب سے مروی شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَرَ ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن نماز میں تاخیر کر الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ دی تھی تو عروہ بن زبیر اُن کے پاس گئے اور انہیں بتایا الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيْرَةَ بْنَ شُعْبَةَ که حضرت مغیرہ بن شعبہ نے جبکہ وہ عراق میں تھے أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْعِرَاقِ ایک دن نماز میں تاخیر کر دی تو حضرت ابو مسعود فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِيُّ انصاری ان کے پاس گئے اور کہا: مغیرہ ! یہ کیا؟ ! یہ کیا فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيْرَةُ أَلَيْسَ قَدْ تمہیں علم نہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) اُترے اور عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نے بھی نماز پڑھی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے نماز صَلَّى فَصَلَّى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُوْلُ پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم