صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 617 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 617

البخارى- جلد ) ۶۱۷ - كتاب الصلوة ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبداللہ کہتے تھے اللہ کی قسم! میں نے خود اُن کو بدر وَأُتْبِعَ أَصْحَابُ الْقَلِيْبِ لَعْنَةً۔کے دن پچھڑے ہوئے دیکھا۔پھر ان کو بدر کے کنوئیں میں گھسیٹ کر پھینکا گیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنوئیں والے لعنت کے نیچے ہیں۔اطرافه: ۲۰۰، ۲۹۳۴، 3۱۸۵، 3854، 3960۔تشریح : اس باب میں ایک اور مثال دی گئی ہے جس میں مسلہ کی پوری پوری وضاحت ہے۔آپ کی پیٹھ پر بچہ دان بمعہ گندگی رکھا ہوا ہے۔لوگ آس پاس قہقہے مارتے اور آپ پر پھبتیاں اُڑا رہے ہیں۔ایک لڑکی آکر آپ کی پیٹھ سے وہ گندگی اُتارتی ہے جس کا کچھ اثر جسم پر بھی لگا رہتا ہے۔باوجود ان تمام باتوں کے آپ کی نماز اپنے اندر قبولیت کی تمام شروط رکھتی ہے اور وہ قبولیت ایسا نمایاں اثر دکھلاتی ہے کہ دیکھنے والے اس کا مشاہدہ کرتے ہیں: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمُ صَرُعَى يَوْمَ بَدْرٍ۔یہ واقعہ ایک زندہ مثال ہے اس عنوان کی : لَا يَقْطَعُ صَلوةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ۔اور جن کی نماز نماز ہی نہیں اس کو تو ذراسی بیرونی حرکت بھی تو ڑ دیتی ہے۔مسلمان کو اپنے نفس کے اندر ایسی معنوی کیفیت پیدا کرنی چاہیے کہ باہر کے حوادث اس پر اثر ہی نہ کریں۔رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكوة - (النور: ۳۸) {یعنی ایسے عظیم مرد جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے یا نماز کے قیام سے یا ز کوۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے۔0000000