صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page lxviii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lxviii

صحيح البخاري ۴۸ دیباچه یہ مضمون تھا آپ کی اس درد بھری گفتگو کا، جس کی یاد اب بھی میرے دل کو ٹھیس لگاتی ہے۔دار الامان پہنچ کر صدر انجمن کی طرف سے تبادلہ کی باقاعدہ اطلاع مجھے ملی اور مجھ سے دریافت کیا گیا کہ اپنے لئے تصنیف کا کوئی کام تجویز کروں۔عربی زبان میں لکھنے کا ایک کام میں نے تجویز کیا جسے صدر انجمن نے باتفاق رائے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی آخری منظوری کے لئے پیش کیا۔مگر آپ نے اُسے نامنظور کرتے ہوئے مجلس شوری کے مقامی کارکنوں سے مشورہ لینے کا حکم دیا۔تبادلہ کے متعلق سابقہ حکم میں مجھ سے تصنیف کا کام لینے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے لکھا کہ مثلاً بخاری کا ترجمہ اور شرح کا کام نہایت ضروری ہے۔جو ان سے لیا جا سکتا ہے اور اس بارے میں مشورہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔اس حکم میں صراحت نہ تھی اور چونکہ مجھے احادیث میں دسترس بھی نہ تھی ، اس لئے میں اس سے بہت ڈرتا تھا اور اس دوسرے مشورہ میں احباب نے بھی یہی رائے پیش کی کہ صحیح بخاری کے سوا کوئی اور کام مجھے دیا جائے میں اس قابل نہیں ہوں اور قرار پایا کہ عربی زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر ایک مفصل اور مستند کتاب لکھی جائے۔مگر حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس تجویز کو بھی نامنظور کرتے ہوئے واضح الفاظ میں حکم دیا کہ میں فورا صیح بخاری کے ترجمہ کا کام شروع کر دوں اور اس کے بعد آپ نے اس بارہ میں اصولی ہدایات سے مجھے متمتع فرمایا۔آپ کے اصل مقصد کو سمجھ کر محض اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے میں نے یہ مبارک کام شروع کر دیا۔پہلے تین چار سالوں میں ترجمے کا کام مکمل ہوا اور جب ۱۹۳۱ء میں نظارت دعوت وتبلیغ کی خدمت علاوہ اس کام کے میرے سپرد ہوئی اور اس دوران تحریک کشمیر کی زمام حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ میں دی گئی اور آپ کے ارشاد کے ماتحت مجھے اس کی خاطر متواتر سفروں میں رہنا پڑا تو شرح کا کام چھ اجزا تک پہنچ کر التوا میں پڑ گیا اور امسال ان سفروں سے فراغت ہونے پر یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب پھر شروع ہو گیا ہے اور میں اس کی جناب سے امید کرتا ہوں کہ وہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک ارادہ کی تکمیل کی توفیق مجھے دے گا۔ہم کیا ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں بے مثیت آلہ کار جس طرح چاہتا ہے اسے حرکت دیتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے سکون میں لاتا ہے۔ہمارا سلسلہ روحانی ہے اور اسے شناخت کرنے کے لئے روحانی آنکھ سے کام لینا چاہیے۔ہر بات اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وابستہ ہے اور وہ فرماتا ہے:۔آسمان سے بہت دودھ لے اترا ہے محفوظ رکھو “ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۵) اور یہ وہی دودھ ہے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے محفوظ کیا جارہا ہے ورنہ ہماری بساط ہی کیا! ہماری کم مائیگی ہماری ہر ے یعنی معارف اور حقائق کا دودھ۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۵) معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دودھ اور شراب پیش کئے گئے تو آپ نے دودھ کو لیا اور آپ سے کہا گیا : أصبت الفطرة یعنی تو نے عین فطرت کو اختیار کیا ہے۔یہ وہی دودھ ہے جو دوبارہ اُترا ہے۔