صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lxvii
صحيح البخ ۴۷ دیباچه آخر افسردگی اور خاموشی میں میں دستخط کرتا ہوں۔مولوی جلال الدین صاحب شمس کو میں نے یہ ماجر اسنایا اور اسی وقت ایک خط مولوی عطاء محمد صاحب کو لکھا اور اپنی تبدیلی کے متعلق دریافت کیا۔جواب نفی میں آیا۔جب جولائی ۱۹۲۶ء کو میں دارالامان واپس پہنچا تو محترم نیر صاحب مجھے احمد یہ چوک میں ملے۔ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔میرے کان میں بصیغہ راز کہتے ہیں۔”مبارک ہو آپ کو ناظر تجارت بنایا گیا ہے۔ان کے اشارہ کوتو میں سمجھتا تھا۔مگر میں نے ان سے بھی کہا: خدمت سے غرض ہے جہاں کہیں بھی لگایا جاؤں اور انہی دنوں قادیان میں خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کا نام میں بھول گیا ہوں مگر اس کے نام کا ایک جز ولفظ محمد ہے دودھ کا بھرا ہوا پیالہ میرے سامنے پیش کرتا ہے۔جس میں بالائی بھی ہے اور میں اسے پیتا ہوں۔محترم مولوی عبد المغنی صاحب سابق ناظر بیت المال سے سیالکوٹ جا کر تجارت کا چارج لیا اور تجارتی حالت کے متعلق ایک رپورٹ مرتب کر کے صدر انجمن احمدیہ کے سامنے پیش کی جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ڈلہوزی بھیجی گئی۔آپ نے مجھے اور سید انعام اللہ شاہ صاحب مرحوم کو بذریعہ تار ڈلہوزی بلایا۔اسی اثنا میں مورخہ ۲ ستمبر ۱۹۲۶ء کی رات کو چودھری نصر اللہ خان صاحب کے انتقال کی اطلاع بذریعہ تاریخینچی اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دوسرے دن بغرض جنازہ دارالامان کے لئے روانہ ہوئے۔میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔راستہ میں بمقام دو نیرہ آپ نے سفر کے چکر اور کوفت دور کرنے کے لئے مجھے چائے پینے کے لئے فرمایا: میں نے معذرت کی کہ مجھے کچھ حرارت ہے اور یہ کہ دمشق اور عراق میں لگا تار کام کرنے کی وجہ سے صحت پر اثر پڑا ہے۔آپ نے فرمایا: کچھ دن کی رخصت لے لیں۔میں نے عرض کی : تجارت کا چارج لینے کے بعد میرا معا رخصت لے لینا نقصان دہ ہو گا۔آپ نے فرمایا: ہم نے تو آپ کو نظارت تالیف و تصنیف میں تبدیل کر دیا ہے اور اس بارہ میں احکام بھی صدر انجمن کو بھیجے جاچکے ہیں۔میں یہ سن کر ششدر رہ گیا۔اس موقع پر آپ نے افسوس بھرے لہجہ میں اور اس انداز سے مجھے مخاطب فرمایا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں بھی آپ کے قلبی احساس اور جذبات میں کسی طرح شریک ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا: بہت سے ضروری کام ہیں جو کرنے کے ہیں۔مگر ان کی طرف توجہ نہیں۔مثلاً صحیح بخاری کے ترجمہ اور اس کی شرح کا کام بھی نہایت ضروری اور اہم ہے۔اگر ہم نے نہ کیا تو ان لوگوں سے کیا توقع ہوسکتی ہے۔جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی صحبت میں رہنے کا موقع نہیں ملا اور جو آپ کے فیضان سے براہ راست مستفیض نہیں ہوئے۔غیروں کے تراجم اور حواشی رہ جائیں گے اور پھر جواناپ شناپ لکھا ہوا ہوگا اس پر دار و مدار ہوگا اور پھر بعد از وقت اعتراضوں کو دیکھ کر ادھر ادھر کے جوابوں کی سوجھے گی۔