صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 609 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 609

صحيح البخاري - جلد ) ۶۰۹ - كتاب الصلوة باب ١٠٤ : التَّطَوُّعُ خَلْفَ الْمَرْأَةِ عورت کے پیچھے نفل پڑھنا ٥١٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ ۵۱۳ : ہم سے عبید اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ ہمیں مالک نے عمر بن عبید اللہ کے مولیٰ ابونضر سے، ابْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے نبی الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائم رت عائشہ سے سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ کرتے ہوئے بتلایا کہ وہ کہتی تھیں: میں رسول اللہ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي دونوں ٹا ٹانگیں آپ کے قبلہ میں ہوتیں۔ جب آپ فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ سجدہ کرتے تو مجھے دبا دیتے اور میں اپنی ٹانگوں کو سکیٹر لیتی اور جب کھڑے ہوتے تو اُن کو پھیلا دیتی۔ کہتی وَالْبُيُوْتُ يَوْمَئِذٍ لَّيْسَ فِيْهَا مَصَابِيْحُ۔ تھیں کہ ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے إطرافه ۳۸۲، ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۰۸، 511 ، ٥١٢، ۵۱٤، ۵۱۵، ۵۱۹ ، ۹۹۷، ١٢۰۹، ٦٢٧٦۔ تشریح: باب ۱۰۲ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واقعہ سے نماز میں مرد کا مرد کا مرد کے سامنے ہونے ا امنے ہونے اور اس کی نماز میں خلل نہ آنے کے متعلق استدلال کیا گیا ہے۔ جس طریق سے وہ استدلال کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ اس بارے میں عورت اور مرد میں فرق ملحوظ رکھا گیا ہے۔ بحالت نماز مرد کا مرد کے سامنے ہونے سے مرد کے لیے ایک عادت اور معمول کی بات ہے۔ مگر عورت کا اس کے سامنے ہونا ایک غیر معمولی حالت پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے اس کے متعلق فتوی میں فرق ہونا چاہیے۔ یہ اعتراض مد نظر رکھ کر باب مذکور قائم کیا گیا ہے اور اس کا جواب اس روایت میں ہے اور وہ یہ کہ اپنی بیوی کے سامنے ہونے سے غیر معمولی حالت پیدا نہیں ہوتی ۔ اسی پر گھر کی محرم عورتوں کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔ التطوعُ کا لفظ عنوان میں اسی لئے نمایاں کیا گیا ہے کہ نوافل عموما گھروں میں پڑھے جاتے ہیں جہاں محرم عورتوں کا نمازی کے آس پاس یا سامنے سے گزرنے کا احتمال ہو سکتا ہے۔ پس اگر اس سے توجہ نہیں بنتی تو نماز پڑھتا ر ہے۔ ایسا ہی مرد کے سامنے آنے سے بھی توجہ بٹنے یا نہ بٹنے کا احتمال ہو سکتا ہے جیسا کہ عورت کے آنے سے۔ اس روایت سے یہ استدلال کرنا لغو ہے کہ ان دنوں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ اس لیے اندھیرے میں توجہ بٹنے کا احتمال کم تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو ارفع ہے۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ چراغ ہوتے ہوئے بلکہ دن کی روشنی میں عورتوں کے آس پاس یا سامنے گزرنے سے توجہ میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اگلے باب کا بھی یہی مضمون ہے۔