صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 608
البخاری جلد ا ۶۰۸ ٨- كتاب الصلوة نماز میں خلل نہیں آتا تو مرد کے سامنے ہونے سے بدرجہ اولی اس میں خلل نہیں واقع ہوگا۔پس کراہیت کی اصل بناء وہی ہے جس کا عنوان میں ذکر ہے۔مسلم ، نسائی ، اور ابن ماجہ * وغیرہ نے عورت، گدھے اور کتے کے متعلق بعض کمزور روایتیں نقل کی ہیں جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قابل اعتبار نہیں۔(دیکھئے شرح باب ۱۰۵) روایت نمبر ۵۱۱ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے خیالات رکھنے والے صحابہ کرام میں بھی تھے جن کی تردید حضرت عائشہ نے کھلے الفاظ میں اسی وقت کر دی تھی۔باب ۱۰۳: الصَّلَاةُ خَلْفَ النَّائِمِ سوئے ہوئے کے پیچھے نماز پڑھنا ٥١٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۵۱۲ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: بسیجی نے ہمیں يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي بتلایا۔کہا: ہشام نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہوئے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلَّيْ وَأَنَا رَاقِدَةٌ مجھے بتلایا۔کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے مُّعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ اور میں آپ کے بستر پر چوڑائی میں لیٹے ہوئے سوئی يُوْتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ۔ہوتی اور جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھتی۔اطرافه: ۳۸۲، ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۰۸، ۵۱۱، ٥۱۳، ۵۱٤، ۵۱۵، ۵۱۹، ۹۹۷، ١٢۰۹، ٦٢٧٦۔تشریح : اس باب میں اور او اور ابن ماجہ کی وہ روایتی رو کی گئ ہیں جن میں سوئے ہوئے کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔امام مالک اور مجاہد اور طاؤس بھی سوئے ہوئے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ سمجھتے ہیں۔کسی حدیث کی بناء پر نہیں بلکہ اس خیال سے کہ مبادا سوئے ہوئے آدمی سے کوئی ایسی بات ظاہر ہو جو نمازی کی توجہ کو پھیرنے والی ہو۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۵۹) ☆ مسلم) كتاب الصلاة باب قدر مايستر المصلى) (نسائی) کتاب القبلة باب ذكر ما يقطع الصلاة) (ابن ماجه كتاب اقامة الصلاة باب ما يقطع الصلاة)