صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 607 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 607

البخاری جلد ) ۶۰۷ ٨- كتاب الصلوة الرَّجُلِ۔حضرت زید بن ثابت نے کہا ہے کہ میں نے تو پرواہ نہیں کی کیونکہ آدمی آدمی کی نماز نہیں تو ڑتا۔:٥١١: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيْلٍ :۵۱۱ ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا کہ ہمیں حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ علی بن مسہر نے اعمش سے اور اعمش نے مسلم یعنی صبیح عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ عَنْ کے بیٹے سے۔انہوں نے مسروق سے، مسروق نے مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بتلایا کہ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ فَقَالُوا يَقْطَعُهَا حضرت عائشہ کے پاس اُن چیزوں کا ذکر کیا گیا جو الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ قَالَتْ لَقَدْ نماز کوتوڑتی ہیں تو لوگوں نے کہا کہ اُسے کتا اور گدھا جَعَلْتُمُوْنَا كِتَابًا لَّقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اور عورت تو ڑتے ہیں تو حضرت عائشہ نے کہا: تم نے تو ہمیں کہتے بنا دیا۔میں نے خود نبی علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان ہوتی اور چار پائی پر لیٹی ہوتی اور مجھے کوئی حاجت ہوتی تو میں نا پسند کرتی کہ آپ کے سامنے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيْرِ فَتَكُوْنُ لِيَ الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُ انْسِلَالًا وَّعَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ہوں۔اس لیے میں آہستگی سے سرک کر نکل جاتی۔إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ۔اور ( علی بن مسہر نے ) اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ سے اسی طرح روایت نقل کی۔اطرافه ،۳۸۲، ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۰۸، ۵۱۲، ۵۱۳، 514، ۵۱5، ۵۱۹، ۹۹۷، ١٢۰۹، ٦٢٧٦۔تشریح: باب مذکور یہ واضح کرنے کے لیے باندھا گیا ہے کہ آدمی کا نمازی کے سامنے ہونا فی ذاتہ کوئی بری بات نہیں بلکہ کراہیت کی اصل وجہ یہ ہے کہ نمازی کے سامنے اس کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونے سے ممکن ہے کہ اس کی توجہ بیٹ جائے۔حضرت عثمان اور حضرت زید بن ثابت کے قول کا حوالہ دے کر باب کا مقصد واضح کر دیا گیا ہے۔حوالوں کی تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۵۸ اور عمدۃ القاری جز ۴۰ صفحہ ۲۹۵۔إِنَّ الرَّجُلَ لَا يَقْطَعُ صَلوةَ الرَّجُلِ کا فتویٰ جنس اناث پر بھی حاوی ہے۔جیسا کہ روایت نمبر ۵۱۱ میں اس کی صراحت ہے۔عنوان باب میں لفظ رَجُل یعنی مرد استدلالا اختیار کیا گیا ہے۔یعنی جب عورت کے سامنے ہونے سے