صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 606 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 606

ری جلد ا Y+Y ٨- كتاب الصلوة اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُ حضرت ابوہیم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ فرمایا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو علم يَقِفَ أَرْبَعِيْنَ خَيْرًا لَّهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ ہو کہ اس پر کیا گناہ ہے تو چالیس۔۔۔کھڑا رہتا یہ اس يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي أَقَالَ کے لیے بہتر ہوتا بہ نسبت اس کے کہ وہ آگے سے گزر أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً۔جائے۔ابونضر نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آیا آپ نے چالیس دن یا مہینے یا سال فرمایا۔تشریح : اس حدیث سے یہ نہ سمجھا جائے کہ چونکہ نمازی کے سامنے سے گزرنے کا فعل بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے اور سابقہ حدیث میں اس کو شیطان کہا گیا ہے اس لیے فَلْيُقَاتِلُہ کے ضرور یہی معنی ہونگے کہ اس سے لڑائی کی جائے۔کسی گناہ کے بڑا ہونے پر شریعت نے افراد کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ اپنے ہاتھ سے سزا دے اور نہ یہ قیاس کہ وہ شیطان ہے اس بات کا مقتضی ہے کہ اس کے ساتھ گتھم گتھا ہونا چاہیے۔شیطان کا مقابلہ کئی طرح سے ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہاتھا پائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ وہ شکایت کر کے اس کو سز ادلوائے۔اس کے ساتھ خود لینے کی اجازت کسی فرد و قطعا نہیں دی گئی۔مگر جیسا کہ سابقہ باب کی شرح میں واضح کیا گیا ہے کہ قتال کے معنی دفاع کے ہیں اور قرآن مجید نے اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کہہ کر دفاع کی صورت و نوعیت کی تعیین کر دی کہ وہ عمدگی سے ہو۔بغیر موقع و محل کو مد نظر رکھنے اور ضروری قیود و شرائط کا لحاظ رکھنے کے گزرنے والوں کو دھکے دینا اور مکے مارنا درندگی اور وحشت ہے جو اسلام کی تعلیم سلامت روی کے بالکل خلاف ہے۔گزرنے والوں میں بعض بوڑھے ، کمزور نظر اور اندھے بھی ہوتے ہیں۔ایک دفعہ ہٹانے سے سمجھ نہ آئے کہ ہٹانے والا کیا چاہتا ہے تو کیا ان کو دھکے دے کر زمین پر گرا دیا جائے۔اس سے بڑھ کر شقاوت قلبی اور کیا ہوگی ؟ ( دیکھئے شرح باب ۱۰۹) بَاب :١٠٢: اِسْتِقْبَالُ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَهُوَ يُصَلِّي * مرد کا جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو مرد کی طرف منہ کرنا وَكَرِهَ عُثْمَانُ أَنْ يُسْتَقْبَلَ الرَّجُلُ وَهُوَ اور حضرت عثمان نے اس بات کو بُرا منایا کہ آدمی کے يُصَلِّي وَإِنَّمَا هَذَا إِذَا اشْتَغَلَ بِهِ فَأَمَّا سامنے منہ کیا جائے جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو اور یہ إِذَا لَمْ يَشْتَغِلْ فَقَدْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ( کراہیت ) صرف اسی وقت ہے جب وہ اس وجہ مَّا بَالَيْتُ إِنَّ الرَّجُلَ لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ سے مشغول ہو جائے۔لیکن جب مشغول نہ ہو تو ☆ یہ عنوان باب فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(دیکھئے فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۷۵۸)