صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 605
البخارى- جلد ) ۶۰۵ - كتاب الصلوة آپس میں لازم وملزوم ہیں۔ایسی صورت میں طمانیت نفس اور خیالات کی ایک جہتی کہاں قائم رہ سکتی ہے؟ فرض کرو کہ وہ دھکا دینے پر بھی باز نہ آئے تو کیا پھر فَلْيُقَاتِلُہ کے ارشاد کی تعمیل میں اس کے ساتھ گھتم گتھا ہو جائے۔اس سے نہ تو صرف اس کی نماز خراب ہوگی بلکہ مسجد میں ہنگامہ برپا کر کے دوسرے نمازیوں کی تشویش کا باعث بھی بنے گا اور اس کا یہ ہنگامہ خود مسجد کے احترام کے بھی خلاف ہوگا۔علاوہ ازیں ارشاد نبوی کا غلط مفہوم لینا شریعت کے بنیادی اصول کی بے حرمتی کرنا ہے۔اسلام نے افراد کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں۔اسی واقعہ میں دیکھیں کہ حضرت ابو سعید خدری بھی مردان کے پاس جاتے ہیں جو کہ ان دنوں امیر تھے۔کیونکہ گزرنے والے نوجوان نے جو خود مروان کے خاندان سے تھا ان کے اس فعل سے اپنی ہتک سمجھ کر لوگوں میں ان کے متعلق نکتہ چینی کی تھی اور اس نوجوان نے حاکم وقت کے پاس شکایت کی اور حضرت ابوسعید بھی پہنچے۔دونوں کا یہ عمل بتلاتا ہے کہ وہ بخوبی سمجھتے تھے کہ قانون ہاتھ میں لینا ان کا حق نہیں ہے۔پس کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ اس ارشاد سے مراد دھکے دینا اور مارنا سمجھتے تھے۔غرض قاتل کا لفظ زبان عربی میں دَفَع کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے معنی دھکے دینا اور لڑنا کئے جائیں۔صحابہ کرام نے کبھی یہ مفہوم نہیں لیا اور نہ اس پر اس طرح کا عمل کیا جیسا کہ آج کل بعض اوقات دیکھنے میں آتا ہے۔اس باب سے پہلے امام بخاری باب ۹۵ میں اس فاصلہ کی تعیین کر چکے ہیں جو نمازی کے مترہ کے لیے از بس ضروری ہے۔پس اگر کوئی شخص اتنے فاصلہ سے گزر رہا ہوکہ نمازی کی توجہ نہیں بنتی تو آگے بڑھ کر اس کو ہٹانا شارع علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کے خلاف ہو گا۔بسا اوقات انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ باہر جائے اور پیچھے نمازی ہوتا ہے تو وہ اندازہ کر کے گزر سکتا ہے۔سترہ کے فاصلہ کی تعیین کرنے کے بعد باب مذکور قائم کرنے سے یہی سمجھانا مقصود ہے کہ حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔باب ۰۱ ابھی یہی بات واضح کرنے کے لیے باندھا گیا ہے۔بَاب ١٠١ : إِثْمُ الْمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کا گناہ ٥١٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ :۵۱۰ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عمر بن عبید اللہ کے عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ مولى ابونضر سے، ابونضر نے بسر بن سعید سے روایت زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمِ کی کہ حضرت زید بن خالد نے اس کو حضرت ابو جہیم يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّی کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے پوچھے کہ نمازی کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِ بَيْنَ يَدَي سامنے سے گزرنے والے کے متعلق انہوں نے الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا تھا۔اس پر