صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 604 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 604

صحيح البخاری جلد ا ام ۶۰ - كتاب الصلوة سرکش اور متمرد۔ باب ۱۰۱ میں اس گناہ کی اہمیت بتلائی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان سے نماز ادا کرنے اور اس اطمینان کے دور کرنے کو کتنا اہم سمجھتے تھے۔ جس قدر ضروری یہ ہے کہ نمازی حضور قلب اور پوری طمانیت کے ساتھ نماز پڑھے اسی قدر بڑا گناہ یہ ہے کہ اس حضور قلب اور طمانیت میں رخنہ ڈالا جائے۔ اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں کے اپنے خیالات مجسم شیطان بن بن کر ان کی نمازوں کے آڑے آرہے ہوتے ہیں ان کی نمازیں کیا قیمت رکھتی ہیں۔ (دیکھئے کتاب الوضوء باب ۲۴ : الوضوء ثلاثا ثلاثا، روایت نمبر ۱۵۹) فَلْيُقَاتِلْهُ کا ارشاد یہاں بھی اسی طرح چسپاں ہوتا ہے جس طرح ایک گزرنے والے پر ۔ عموماً لوگ ہاتھ کے اشارے سے ہٹ جاتے ہیں اور یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی آدمی پہلی دفعہ ہاتھ کے اشارہ سے نہ ہٹے۔ ایسی صورت میں نمازی کو اجازت ہے کہ وہ ایسے طریق سے ہاتھ سے ہٹا دے کہ گزرنے والے کو محسوس ہو کہ اس کے گزرنے کو نا پسند کیا جارہا ہے۔ کبھی مسجد میں غیر معمولی از دحام ہونے کی وجہ سے آنے جانے والوں کو خیال نہیں رہتا کہ ان کے آگے کوئی نماز پڑھ رہا ہے اور ازدحام کی حالت میں اشارہ کرنے یا ہاتھ سے معمولی طور پر ہٹانے سے بھی بعض وقت گزرنے والے کو توجہ نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ایسی صورت میں اجازت ہے کہ اس کو اتنے زور سے ہٹایا جائے کہ جس سے اس کو توجہ پیدا ہو۔ شریعت کے تمام احکام موقع ومحل کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ وَفِي الْكَعْبَةِ کا جملہ جو عنوان میں نمایاں کر کے دکھلایا گیا ہے اس سے یہ بتلانا بھی مقصود ہے کہ حضرت ابن عمر کو ہٹانے کی جو ضرورت پیش آئی تھی وہ کعبہ میں آئی تھی۔ جہاں بڑا ہجوم تھا۔ غرض موقع ومحل کو مد نظر رکھتے ہوئے لفظ قتال دفاع کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ دونوں لفظوں کا مفہوم ہٹانا ہے۔ ہاتھ کے اشارہ سے بھی ہٹایا جاتا ہے اور ہاتھ کے ساتھ بھی۔ امام بخاری نے دفاع اور قتال دونوں کا مفہوم يَرُدُّ کے لفظ سے ادا کیا ہے جس کے معنی مطلق لوٹانے کے ہیں اور اس مفہوم کی تائید میں حضرت ابن عمر کا فعل ان کے اس قول کے ساتھ پیش کیا ہے: اِنْ اَبی إِلَّا أَنْ تُقَاتِلَهُ فَقَاتِلُهُ یعنی حضرت ابن عمر کو بھی فَلْيَدْفَعَهُ کا ارشاد نبوی معلوم تھا اور انہوں نے جو عمل کیا ہے وہ صرف اسی قدر ہے کہ (رده) گزرنے والے کو ہٹا دیا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری نے بھی جو ارشاد نبوی کے راوی ہیں زیادہ سے زیادہ جو کیا ہے وہ یہی ہے کہ پہلے معمولی طور پر ہٹایا ہے اور پھر نسبتا سختی سے ہٹایا ہے۔ ملکے وغیرہ نہیں مارے اور نہ دھکے دیے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ارشاد کے کیا معنی سمجھتے تھے۔ امام موصوف نے اس تشریح کی خاطر عنوان باب میں لفظ يرد اختیار کیا ہے۔ چنانچہ امام ابن حجر نے امام موصوف کے خیال کی تائید میں علامہ قرطبی کی یہ تشریح نقل کی ہے: فَلْيَدُ فَعَهُ اَئی بِالإِشَارَةِ وَلَطِيفِ الْمَنْعِ یعنی دفع سے مراد دھکا دینا نہیں بلکہ اشارہ اور نرمی اور مناسب طریق سے روکنا ہے ۔ فَلْيُقَاتِلُهُ أَى يَزِيدَ فِي دَفْعِهِ الثَّانِي أَشَدَّ مِنَ الْأَوَّلِ اور قتال سے مراد یہ ہے کہ پہلے کی نسبت ذراختی سے اس کو ہٹائے نہ یہ کہ دھکے دے کر ہنگامہ برپا کر دے۔ جس سے نہ صرف غرض مقصود ہی باطل ہو جاتی ہے ۔ بلکہ ایسا نمازی قانون شریعت کی خلاف ورزی کا مرتکب بن جاتا ہے۔ مذکورہ بالا ارشاد نبوی کا مقصد تو یہ ہے کہ کوئی گزرنے والا اس کی توجہ پرا گندہ نہ کرے مگر غالباً گزرنے والے سے توجہ اتنی پراگندہ نہیں ہوتی جتنا کہ زور سے دھکا دینے یا ہاتھا پائی ہے۔ کیونکہ زور سے دھکا دینا اور غصہ کے جذبہ کا اُبھرنا دونوں