صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 603
البخارى- جلد ) ۶۰۳ ٨- كتاب الصلوة مَا لَقِيَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ ہٹایا تو وہ حضرت ابوسعید کو بُرا بھلا کہنے لگا۔پھر وہ خَلْفَهُ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِابْن مروان کے پاس گیا اور جو تکلیف اُسے حضرت أَخِيْكَ يَا أَبَا سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ابوسعید سے پنچی تھی ، اس کی ان کے پاس شکایت کی۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِذَا صَلَّى حضرت ابوسعید اس کے پیچھے ہی مروان کے پاس اندر پہنچ گئے۔مروان نے ان سے کہا: ابوسعید آپ کا۔أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ اور آپ کے بھتیجے کا کیا معاملہ ہے؟ حضرت ابوسعید فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ نے جواب دیا۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ۔فرماتے سُنا تھا کہ جب تم میں سے کوئی کسی چیز کے سامنے نماز پڑھ رہا ہو جو اس کو لوگوں سے اوٹ میں طرفه: ٣٢٧٤ تشریح: رکھے اور پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو چاہیے کہ اس کو ہٹا دے۔اگر وہ انکار کرے تو پھر وہ اس کا مقابلہ کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔سامنے سے گزرنے والے کو بحالت نماز ہی ہٹانے کا حکم ہے جیسا کہ حضرت ابن عمرؓ کا حوالہ دے کر باب کا عنوان واضح کر دیا گیا ہے۔اس حوالہ کی تفصیل فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۵۲ میں دیکھئے۔فِي النَّشَهدِ وَفِي الْكَعْبَة : جملہ فِی التَّشَهُدِ کی طرف متوجہ کر کے ان لوگوں کا رد کرنا مقصود ہے۔جن کا یہ خیال ہے کہ مقابلہ نماز سے فارغ ہو کر کرلے اور جملہ فِی الْكَعْبَةِ سے عبد الرزاق کی روایت لَا يَقْطَعُ الصَّلوةَ بِمَكَّةَ شئ مد نظر رکھ کر اس خیال کی ضمنا تردید کی گئی ہے۔إِنْ أَبِي إِلَّا أَنْ تُقَاتِلَهُ فَقَاتِلُهُ : سے اُسے ہٹانا مراد ہے لڑنا مراد نہیں۔لسان العرب نے لفظ قتل اور قتال کے لغوی معنوں کی تشریح کرتے ہوئے اس حدیث کا بھی حوالہ دیا ہے اور اس کے یہ معنے گئے ہیں: دَافِعُهُ عَنْ قِبْلَتِكَ وَلَيْسَ كُلُّ قِتَالٍ بِمَعْنَى الْقَتْلِ (لسان العرب تحت لفظ ”قتل“ یعنی اس کو اپنے سامنے سے ہٹا دے اور قتال کے معنی مارنا ہی نہیں ہوا کرتا۔اس باب میں دور و استیں نقل کی گئی ہیں۔ایک یونس بن عبید کی اور دوسری سلیمان بن مغیرہ کی۔حضرت ابوسعید خدری کا سارا واقعہ سلیمان نے نقل کیا ہے۔یونس کی روایت میں صرف اس قدر ہے: قَالَ النَّبِيُّ عَ إِذَا صَلَّى أحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ۔۔۔۔فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانَ۔اس روایت میں گزرنے والے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان قرار دیا ہے۔کیونکہ وہ نماز میں مخل ہوتا ہے اور روکنے سے نہیں رکتا۔فَإِنْ اَبی فَلْيُقَاتِلُهُ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اس شخص کو کہا گیا ہے جو پہلی دفعہ روکنے سے نہیں رکتا۔گویا وہ ایک رنگ میں تمرد اور سرکشی اختیار کرتا ہے۔شیطان کے معنے صلى الله