صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lxvi
صحيح البخارى موم دیباچه ہیں اور استنباط میں نہایت دقیق پہلو اختیار کرتے ہیں۔مثلا کتاب الصلوۃ باب ۸۹ کا یہ عنوان قائم کیا ہے: مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ اور اس کے ماتحت کسوف کے متعلق روایت درج کی ہے اور شارحین حیران ہیں کہ اس روایت کا عنوان سے کیا تعلق ؟ مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ آپ کا مقصد تکبیر کے بعد دعائیں کرنے کی طرف توجہ دلانا ہے۔اسی قسم کی ایک دوسری مثال کتاب العلم باب ۲ میں ملاحظہ فرمائیں۔بعض وقت آپ کو یہ راہ اس لئے بھی اختیار کرنی پڑتی ہے کہ مسئلہ زیر نظر کے متعلق کوئی ایسی مستند حدیث نہیں ملی جس سے اس کا استنباط کیا جا سکے مگر تعامل سے اس مسئلہ کا یقینی ثبوت ملتا ہے۔(۲۴) جب امام بخاری کسی لفظ کی لغوی تشریح کریں گے یا ” قال فلان “ کہہ کر کسی کے قول کا حوالہ دیں گے تو یقین جانیں کہ وہاں وہ کسی خاص مقصد کی طرف توجہ منعطف کرانا چاہتے ہیں۔بطور مثال دیکھئے (روایت نمبر ۱۰۵،۱۲۱ نیز کتاب الصلوۃ باب ۱۸۱،۱۵۳) (۲۵) بعض وقت عنوان باب میں صرف آیت یا حدیث کا حوالہ دے کر اسے سابقہ باب کے لئے بطور دلیل قائم کریں گے۔اس کے ضمن میں کوئی مستند روایت بطور متن نہیں لائیں گے۔کبھی اس کی وجہ غالبا وہی معلوم ہوتی ہے جو او پر نمبر ۲۴ میں بیان کی گئی ہے۔مثال کے لئے دیکھئے ( کتاب الایمان باب ۳۸ کتاب العلم باب ۲۱) (۲۶) اور کبھی کبھی روحانی امور از قبیل توحید باری تعالی، خلوص نیت و عمل اور تزکیہ نفس وغیرہ مقاصد کی یاد دہانی کرانے کی خاطر ایک باب دوسرے بابوں کے درمیان قائم کرتے ہیں اور شارحین جن کی توجہ زیادہ تر احادیث اور ان سے متعلقہ مسائل کی جانچ پڑتال کی طرف منصرف ہوتی ہے۔امام موصوف کی اصل غرض و غایت ان کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک بے تعلق بات کہی گئی ہے۔مثال کے لئے دیکھئے ( کتاب الوضوء باب ۲۶،۸) غرض اس قسم کے بیسیوں تصرفات کے ذریعہ امام محمد بن اسماعیل نے عقائد دینیہ ، مسائل فقہ اور روایات کی صحت و سقم کے متعلق اپنی رائے کا اظہار فرمایا ہے۔مذکورہ بالا قواعد درحقیقت اقلید میں صحیح بخاری کے بابوں کے کھو لئے اور محفوظ جواہر کے استخراج اور مصون معانی کے حصول کے لئے۔تحریک شرح ہذا : علم حدیث، اس کے اصل مقام، اس کی تاریخ تدوین اس کے منبط وربط کے اصول اور جامع صحیح مسند بخاری کے اصل موضوع اور اس کے سمجھنے کے طریق سے متعلق ذکر کرنے کے بعد اب میں موجودہ شرح کے لکھے جانے کے متعلق بھی ایک دو باتیں کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔۱۹۲۵ء کے آخر میں جبکہ میں دمشق میں تبلیغی مرکز قائم کرنے میں مشغول تھا۔نومبر کا مہینہ ہوگا یا دسمبر کا؛ میں نے بحالت کشف دیکھا کہ مولوی عطا محمد صاحب جو کہ اس وقت ناظر اعلیٰ کے کلرک تھے میرے سامنے کھڑے ہیں اور آرڈر بک ان کے ہاتھ میں ہے۔چوہدری نصر اللہ خان صاحب اس وقت ناظر اعلیٰ تھے۔ان کی طرف سے میرے نام ایک آرڈر بدیں مضمون ہے کہ نظارت تالیف و تصنیف میں آپ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔( دمشق جانے سے پہلے میں ناظر تعلیم و تربیت تھا) اس آرڈر سے مجھے انقباض محسوس ہوا۔اس لئے میں نے دستخط کرنے میں تامل کیا۔مگر وہ ڈٹ کر کھڑے ہیں گویا کہ حکم کی تعمیل بہر حال ضروری ہے۔