صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 597 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 597

البخاري - جلد ) ۵۹۷ ٨- كتاب الصلوة تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأَسْطُوَانَةِ کو دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس قصد انماز قَالَ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے نبی وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا۔صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کے پاس قصداً نماز پڑھا کرتے تھے۔٥٠٣: حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ قَالَ حَدَّثَنَا :۵۰۳ ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَنَسٍ ہمیں بتلایا۔انہوں نے عمرو بن عامر سے، عمرو نے قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِي حضرت انس (بن مالک ) سے روایت کی۔انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُوْنَ نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے السَّوَارِيَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ وَزَادَ شُعْبَةُ صحابہ سے ملا ہوں۔وہ مغرب کے وقت ستونوں کی عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ طرف جلدی سے لپک کر جاتے اور شعبہ نے عمرو سے اور عمرو نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔طرفه ٦٢٥۔تشریح اتنا بڑھایا: ”یہاں تک کہ نبی ﷺ باہر آتے۔“ روایت نمبر ۵۰۲ میں یزید بن ابی عبید کے الفاظ فَيُصَلَّى عِندَ الْأَسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ ستون کی طرف منہ کر کے نہیں بلکہ اس کے قریب نماز پڑھتے تھے۔اس غلط انہی کو دور کرنے کے لئے عنوان باب میں الصلوة إلى الأسطوانة کہہ کر حضرت عمرؓ کے قول اور عمل کا حوالہ دیا اور بتلایا ہے کہ لفظ عند سے مراد الی ہے۔روایت نمبر ۵۰۲ میں مصحف یعنی قرآن مجید رکھنے کی جس جگہ کا ذکر ہے مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک صندوق تھا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۴۶) اس روایت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل درآمد کا پر چلتا ہے: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَتَحَرَّى الصَّلوةَ عِنْدَهَا۔تَحَرَّى کے معنی جستجو کرنا کسی چیز کا قصد کرنا۔دوسری روایت (نمبر ۵۰۳) سے یہ بتلایا گیا ہے کہ جلیل القدر صحابہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔يَبْتَدِرُونَ إِلَى السَّوَارِيَ عِندَ الْمَغْرِبِ یعنی مغرب کی نماز کے وقت ان ستونوں کی طرف جلدی سے جاتے اور دورکعت نفل پڑھتے۔یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باہر آنے سے اور امامت کرانے سے پہلے۔جیسا کہ اس روایت کے آخری حوالہ بروایت شعبہ سے اس امر کی تصریح کی گئی ہے۔آپ اس لئے ستون کو سامنے رکھ کر نماز پڑھتے تا آنے جانے والے لوگ ستونوں کے درمیان آسانی سے گزر سکیں اور نماز اطمینان سے پڑھی جاسکے۔پتہ