صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 596 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 596

البخارى- جلد ) ۵۹۶ ٨- كتاب الصلوة اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ فَصَلَّى صلی اللہ علیہ وسلم دو پہر کو (ہمارے پاس) باہر آئے بِالْبَطْحَاءِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ اور آپ نے بطحاء میں ظہر اور عصر کی نماز دو دورکعتیں وَنَصَبَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً وَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ پڑھیں اور آپ نے اپنے سامنے ایک چھوٹی برچھی النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوْئِهِ۔گاڑی۔آپ نے وضو کیا تو لوگ آپ کے وضو کا پانی تبر کا بدن پر ملنے لگے۔اطرافه: ۱۸۷، ۳۷۶، ٤٩٥، ٤٩٩ ، ٦٣٣، ٦٣٤، ٣٥٥٣، ٣٥٦٦، ٥٧٨٦، ٥٨٥٩۔عبد الرزاق نے اپنی مسند میں ایک روایت باب لا يقطع الصلوة بمكة شيء میں نقل کی ہے جس تشریح: سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ مکہ میں سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ وہاں قبلہ جو بیت اللہ ہے سامنے ہوتا ہے۔اصحاب سنن نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ شاید سترہ قبلہ کا ہی قائم مقام ہو۔یہ روایت بلحاظ سند کے کمزور ہے۔امام بخاری نے اس روایت کی کمزوری ثابت کرنے نیز مذکورہ بالا وہم کے ازالہ کے لئے یہ باب قائم کیا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۴۵ ) سترہ قبلہ کا قائم مقام نہیں ہوتا۔اگلے تین بابوں سے بھی امام موصوف کے اس نقطہ نظر کی تائید ہوتی ہے۔بَابِ ٩٥: الصَّلَاةُ إِلَى الْأُسْطُوَانَةِ سنتون کے بالمقابل نماز پڑھنی وَقَالَ عُمَرُ الْمُصَلُّوْنَ أَحَقُّ بِالسَّوَارِي اور حضرت عمر نے کہا: جونماز پڑھ رہے ہیں وہ ستونوں مِنَ الْمُتَحَدِّثِيْنَ إِلَيْهَا وَرَأَى عُمَرُ رَجُلًا کے زیادہ مستحق ہیں، ان لوگوں سے جو ان کے پاس بیٹھ يُصَلِّي بَيْنَ أَسْطُوَانَتَيْنِ فَأَدْنَاهُ إِلَى کر باتیں کرتے ہیں اور حضرت عمر نے ایک شخص کو دو سَارِيَةٍ فَقَالَ صَلِّ إِلَيْهَا۔ستونوں کے درمیان نماز پڑھتے دیکھا تو اس کو ایک ستون کے قریب کر دیا اور کہا کہ اس کے بالمقابل پڑھو۔٥٠٢ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۵۰۲ ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: یزید قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيْدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ قَالَ بن ابی عبید نے ہمیں بتلایا۔کہا کہ میں حضرت سلمہ كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَع بن اکوع کے ساتھ آیا کرتا تھا تو وہ اُس ستون کے فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأَسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ پاس نماز پڑھا کرتے تھے جو قرآن مجید رکھنے کی جگہ الْمُصْحَفِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ کے قریب ہے۔اس پر میں نے کہا: ابو مسلم ! میں آپ