صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 595 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 595

صحيح البخاري- جلد ) ۵۹۵ - كتاب الصلوة اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ کہتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حاجت کے لیے تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلَامٌ وَمَعَنَا عُكَازَةٌ أَوْ عَصًا نکلتے تو میں اور ایک لڑکا آپ کے پیچھے چلے جاتے۔ أَوْ عَبَرَةٌ وَمَعَنَا إِدَاوَةٌ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ ہمارے ساتھ پھلدار سونٹی یا چھڑی یا چھوٹی برچھی ہوتی اور ہمارے ساتھ ایک چھاگل ہوتی ۔ جب آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوتے تو ہم آپ کو وہ چھا گل پکڑا حَاجَتِهِ نَا وَلْنَاهُ الْإِدَاوَةَ۔ اطرافه ١٥٠ ، ١٥١، ١٥٢، ٢١٧۔ دیتے۔ تشریح باب ۱۹۲ میں برچھی اور پھل دار چھتری کو بور سترہ استعمال کرنے کا ذکر خصوصیت ۔ موصیت سے اس لئے نہیں کیا صلى الله ۔ گیا کہ ان چیزوں کے سوا کوئی دوسری چیز سترہ نہیں بنائی جاسکتی۔ بلکہ اس سے صرف اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اپنے ساتھ برچھی یا پھل دار چھڑی رکھتے تھے۔ چنانچہ باب ۹۳ کی دوسری روایت میں اسی بات کی صراحت ہے۔ اس لئے عند الضرورت آپ انہی چیزوں میں سے کسی چیز کو سامنے گاڑ لیا کرتے تھے۔ مسلمان نبی ﷺ کی یہ سنت ؟ کی یہ سنت بھی بھول گئے ہیں۔ جس کی اتبار ۔ جس کی اتباع نہ صرف خود حفاظتی کے لئے ہی بلکہ اعتماد نفس اور حرم اور دوراند۔ اندیشی جیسے اہم اہم ان اخلاق پیدا پیدا کر کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ اس قسم کے احتیاطی وسائل کا اپنے ساتھ رکھنا نتائج کے اعتبار سے ایک اہم بات ہے اور آپؐ کی اتباع کا سوال مسلمانوں کے لئے اصول دین میں سے ہے۔ اگر ہر بات کو معمولی سمجھ کر فہرست سے نکالنا شروع کر دیں تو ہماری معنویات کی دھجیاں اُڑ جائیں گی اور ہماری روحانیت بھی ساتھ ہی کالعدم ہو جائے گی۔ بلکہ اس کے ساتھ ہی ہماری ہیئت اجتماعیہ کا وجود بھی خطرہ میں پڑ جائے گا۔ مسلمان اس سنت کے متعلق بھی تساہل سے کام لے کر جو نتیجہ بھگت رہے ہیں وہ ظاہر ہے۔ اُن کی تلواریں تو ان کے ہاتھ سے چھن گئیں ۔ مگر اب ایک پھلدار چھڑی کے رکھنے کا دینی حق بھی ان کے لئے تسلیم کے لئے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ محدثین کا یہ بہت ؟ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے نمایاں عنوان باندھ کر ہمیں آگاہ کیا ہے کہ یہ ہمارا دینی حق ہے کہ اپنی خود حفاظتی کے وسائل ہر وقت اپنے پاس رکھیں ۔ روایت نمبر ۴۹۹ میں عورتوں اور گدھوں کے گزرنے کا جو ذکر آیا ہے اس کی تشریح کے لئے دیکھئے باب ۰۱ روایت نمبر ۵۱۰۔ بَاب ٩٤: السُّتْرَةُ بِمَكَّةَ وَغَيْرِهَا مکہ وغیرہ میں سترہ کرنا ٥٠١ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۵۰۱ ہم سے۔ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے جُحَيْفَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى ابو جحیفہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ