صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 593
البخاری جلد ) ۵۹۳ - كتاب الصلوة بَاب ۹۱ : قَدْرُ كَمْ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْمُصَلِّي وَالسُّتْرَةِ نماز پڑھنے والے اور سترہ کے درمیان کتنا اندازہ ہونا چاہیے ٤٩٦ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ قَالَ :۴۹۶ ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عبد العزيز بن ابی حازم نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے أَبِيْهِ عَنْ سَهْلِ قَالَ كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل سے رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ ہوتی۔الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ۔طرفه: ٧٣٣٤۔٤٩٧: حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۹۷ : ہم سے مکی ( بن ابراہیم ) نے بیان کیا، کہا: يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ يزيد بن ابی عبید نے حضرت سلمہ سے روایت کرتے جِدَارُ الْمَسْجِدِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ مَا كَادَتِ ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا کہ مسجد کی دیوار منبر کے اتنی قریب تھی کہ ایک بکری وہاں سے نہیں گزرسکتی الشَّاةُ تَجُوْزُهَا۔تھی۔تشریح: باب ۹۱ کی دونوں روایتوں میں اختلاف نہیں۔پہلی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ سے مراد وہ ساری جگہ ہے جہاں آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے۔آپ کی نماز گاہ اور دیوار کے درمیان اتنا فاصلہ تھا کہ وہاں سے بکری گزرسکتی تھی اور دوسری روایت میں منبر اور دیوار کے درمیان کا فاصلہ بتلایا گیا ہے۔اس سے روایت نمبر ۳۷۷ کے مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے۔جس میں آتا ہے کہ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور سجدہ کرنے کے لئے نیچے اترے اور منبر کے پائے کے قریب سجدہ کیا۔اس سے بھی فاصلہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۴۳ ) ان روایتوں سے کم از کم فاصلہ ظاہر کرنا مقصود ہے۔یہ فاصلہ اتنا زیادہ نہ ہو کہ سترہ کی غرض و غایت ہی مفقود ہو جائے۔