صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 593 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 593

صحيح البخاري - جلد ) ۵۹۳ - كتاب الصلوة بَاب ۹۱ : قَدْرُ كَمْ يَنْبَغِي أَنْ يَكُوْنَ بَيْنَ الْمُصَلِّي وَالسُّتْرَةِ نماز پڑھنے والے اور سترہ کے درمیان کتنا اندازہ ہونا چاہیے ٤٩٦ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ قَالَ ۴۹۶ : ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عبد العزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے أَبِيْهِ عَنْ سَهْلٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل سے رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ اور الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ۔ طرفه: ٧٣٣٤۔ دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ ہوتی ۔ ٤٩٧ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۹۷ : ہم سے مکی ( بن ابراہیم ) نے بیان کیا، کہا: يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ يزيد بن ابی عبید نے حضرت سلمہ سے روایت کرتے جِدَارُ الْمَسْجِدِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ مَا كَادَتِ ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی دیوار منبر کے اتنی قریب تھی کہ ایک بکری وہاں سے نہیں گزر سکتی الشَّاةُ تَجُوْزُهَا ۔ تھی۔ نماز گاہ سے مراد وہ ۹۱ کی دونوں روایتوں میں اختلاف نہیں۔ پہلی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ ۔ تشریح : باب 41 کی دونوں روایتو ساری جگہ ہے جہاں آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ۔ آپ کی نماز گاہ اور دیوار کے درمیان اتنا فاصلہ تھا کہ وہاں سے بکری گزر سکتی تھی اور دوسری روایت میں منبر اور دیوار کے درمیان کا فاصلہ بتلایا گیا ہے۔ اس سے روایت نمبر ۳۷۷ کے مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جس میں آتا ہے کہ آپؐ نے منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور سجدہ کرنے کے لئے نیچے اترے اور منبر کے پائے کے قریب سجدہ کیا۔ اس سے بھی فاصلہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۴۳ ) ان روایتوں سے کم از کم فاصلہ ظاہر کرنا مقصود ہے۔ یہ فاصلہ اتنا زیادہ نہ ہو کہ سترہ کی غرض وغایت ہی مفقود ہو جائے۔