صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 592
البخاری جلد ) ۵۹۲ ٨- كتاب الصلوة ٤٩٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۹۵: ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْن أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ ہمیں بتلایا۔انہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے روایت سَمِعْتُ أَبِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا۔وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ بِالْبَطْحَاءِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ ( کہتے تھے ) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں عَنَزَةُ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ان کو ظہر کی دورکعتیں اور عصر کی دورکعتیں نماز پڑھائی تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ۔اور آپ کے آگے برچھی تھی۔عورت بھی آپ کے سامنے سے گزرتی تھی اور گدھا بھی۔اطرافة: ١٨٧، ٣٧٦، ٤٩٩، ٥٠١، ٦٣٣، ٦٣٤ ، ٣٥٥٣، ٣٥٦٦، ٥٧٨٦، ٠٥٨٥٩ تشریح: سُترہ سترہ کے لغوی معنی پردہ ، آڑا اور اصطلاح شریعت میں اس چیز کو کہتے ہیں جو نمازی اپنے سامنے احتیاط رکھ لیتا ہے۔تا گزرنے والے اس کے پرے سے گزریں۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ نماز کی اپنے سامنے بطور حد فاصل کے ایک چیز رکھ کر اپنی توجہ کو منتشر ہونے سے بچاتا ہے۔چھڑی یا کوئی اور ادنی سی شئے کو سامنے رکھ لینا بظاہر ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے۔مگر ایک چھوٹی سی چیز بھی سالہا سال کے تعامل سے انسان کے ذہن میں ایسی کیفیات پیدا کرنے کا موجب ہو جاتی ہے۔جن سے توجہ کو قابو میں رکھنے کے لئے بڑی مددمل سکتی ہے۔شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معمولی سا فعل بھی حق و حکمت پر مبنی ہے۔سترة المصلی کے متعلق باب قائم کرتے وقت امام کے سترے کی اجتماعی اہمیت مد نظر رکھتے ہوئے اس کو مقدم کیا ہے۔جماعت کے قیام اور اس کے نظم و نسق میں جس قدر اہمیت اسلام نے امام کو دی ہے اور کسی چیز کو نہیں دی۔جیسا کہ آئندہ یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گا۔اس باب کے ذیل میں تین روایتیں لائی گئی ہیں۔پہلی روایت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ کسی نے حضرت ابن عباس کا گزرنا برا نہیں منایا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سترہ سب کے لئے کافی تھا۔چونکہ اس روایت اور استدلال میں پوری وضاحت نہ تھی اس لئے امام موصوف دوسری روایت لائے ہیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل درآمد کا صراحت ذکر ہے۔تیسری روایت بتلاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے برچھی ہوتی اور عورتیں بھی گزرتیں اور گدھے بھی۔ان کے گزرنے سے کسی کی نماز نہ ٹوٹتی۔(مزید تفصیل کے لئے دیکھئے باب ۱۰۲ روایت نمبر ۵۱) صَلَّى بِهِمُ بِالْبَطْحَاءِ (نمبر ۴۹۵) : بطحاء سے مراد وادی مکہ ہے۔وہاں دو دو رکعتیں بوجہ سفر پڑھی گئیں۔