صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lxv
صحيح البخارى ۴۵ دیباچه (۲۱) کہا جاتا ہے کہ امام موصوف معتد بہ حصہ روایات مکرر لائے ہیں۔جسے غیر ضروری سمجھتے ہوئے بعض نے انہیں حذف کر کے صحیح بخاری کو مختصر کر دیا ہے۔مگر انہوں نے اپنے اس فعل سے صحیح بخاری کی خوبصورتی کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔درحقیقت روایات کا تکرار کئی باتوں کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔اوّل: جب ایسی روایتوں کو دہرایا گیا تو اسے مختلف سندوں کے ساتھ پیش کیا ہے تا اس کی قوت صحت میں اضافہ ہو۔پھر ان سے نئے مسائل مستنبط کئے ہیں۔دیکھئے کتاب الصلوۃ باب ۸۸ میں مندرجہ مکرر روایتیں۔دوم : بعض روایتیں ایک سند سے منقطع ہوتی ہیں۔مگر دوسری سند سے وہ متصل ہوتی ہیں۔اس لئے اسے دہرا کر اس کی صحت یا ستم کو واضح کیا ہوتا ہے۔مثال کے لئے دیکھئے کتاب الجنائز باب ۷۵۷۴۔اس میں پہلی روایت زہری نے بواسطہ عبدالرحمن ، حضرت جابر سے نقل کی ہے جو متصل ہے۔مگر دوسری روایت منقطع ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زہری نے در حقیقت حضرت جابر سے براہ راست یہ روایت نہیں سنی۔نیز دوسری روایت میں کچھ زیادتی ہے یا ایک روایت معنون ہے اور اس کے اس نقص کو دور کرنے کے لئے اس کے بعد ایک اور ایسی روایت کا حوالہ دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تدلیس کا احتمال نہیں۔بلکہ یہ روایت دوسری سند سے سماعی ثابت ہوتی ہے۔(مزید مثال کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء روایت نمبر ۲۱۸) سوم : بعض وقت ایک روایت کی کمی کو دوسری روایت سے پورا کیا جاتا ہے۔مثلاً روایت نمبر ۵۲۰ میں سات مقتولوں کے نام مذکور ہیں۔جبکہ سابقہ روایت (نمبر ۲۴۰) میں صرف چھ کے نام کا ذ کر تھا اور ایک کا نام راوی کو بھول گیا تھا۔اس روایت کی سند بھی اور ہے۔( مثال کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۳۴/۳۳) چہارم: بعض وقت روایت کا تکرار اس غرض سے بھی کیا جاتا ہے کہ کسی راوی کی تدلیس کا پتہ دیں۔مثال کے لئے دیکھئے روایات مندرجہ کتاب الوضوء باب ۷۰۔غرض کئی قسم کے ملاحظات کی بناء پر روایتوں کو مکرر لایا جاتا ہے۔جنہوں نے اس تکرار کو قتیل سمجھ کر مکرر روایتوں کو حذف کر دیا ہے۔انہوں نے امام موصوف کی محنت اور اس کتاب کی قدرو قیمت کو ضائع کر دیا ہے۔اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو صحیح معنوں میں تکرار کہیں بھی نہیں۔بعض وقت آپ کو ایک ہی عنوان دو بابوں میں نظر آئے گا مگر باوجود اس کے ہر ایک باب کا مفہوم الگ الگ ہو گا۔مثال کے لئے دیکھئے ( کتاب العلم باب ۲۲۱) (۲۲) طریق استدلال و استنباط میں بھی امام موصوف نے کئی طرح کے لطیف تصرفات اور دقیق سے دقیق استدلالات سے کام لیا ہے۔مثلاً ایک روایت سے کئی مسائل اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ان میں سے بعض اس قدر واضح ہیں کہ محتاج بیان نہیں اور بعض غامض اور محتاج تشریح ہیں۔اس لئے آپ نے باب کے عنوان میں اس غامض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے واضح مسئلوں کی تصریح کو نظر انداز کر دیا ہے۔اس مخصوص طریق استنباط کی مثال کے لئے دیکھئے (کتاب الحیض باب (۶) اور دقیق استدلال کی مثال کے لئے دیکھئے (کتاب العلم باب (۱۶) (۲۳) بعض وقت روایت کا مضمون کچھ اور ہوتا ہے مگر کسی ضمنی تعلق کی وجہ سے باب کا عنوان کچھ اور باندھتے