صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 590 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 590

صحيح البخاري - جلد ا ۵۹۰ - كتاب الصلوة اس جگہ پہنچنے پر ہو جائے تو مسافر وہاں نماز پڑھ لے ورنہ اپنا سفر جاری رکھے۔ اہل کتاب اسی لئے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے نبیوں کے آثار کے پیچھے پڑ گئے۔ ان کو گرجے اور عبادت گاہیں بنا لیا ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۳۶) حضرت عمر کی یہ تنبیہ بھی بہت قیمتی ہے۔ انہوں نے وہاں نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا بلکہ ان جگہوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے سے روکا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا: لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَاءِ هِمْ مَسَاجِدًا ( روایت نمبر ۴۲۷ ، ۴۳۵-۴۳۷) اس سے آپ کی نماز گاہوں کی بے حرمتی یا اُن سے بے اعتنائی برتنے کے متعلق استدلال نہیں کیا جا سکتا اور نہ حضرت عمر کا یہ مقصد تھا۔ انسان جب بھی ان مقامات میں نماز پڑھے گا جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی وقت کھڑے ہو کر رب العالمین کے حضور سجدہ نیاز بجالائے تھے تو وہ یقینا اپنے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معنویات کے ساتھ ایک گونہ معنوی ارتباط محسوس کرے گا اور اس کے نفس میں خشوع و خضوع کی کیفیات لا محالہ پیدا ہوں گی۔ اس کی روح اپنے آپ کو آستانہ الوہیت پر ایک نئے رنگ میں جھکے ہوئے پائے گی۔ ظواہر کے ساتھ اتصال پیدا کرنے سے معنویات میں ایک گونہ اتصال کی رو پیدا ہو جاتی ہے۔ حج کی مشروعیت بھی اسی فلسفہ نفس کے ساتھ وابستہ ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے شرح کتاب الحج باب (۴) حضرت عتبان کا واقعہ روایت نمبر ۴۲۵ میں گزر چکا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست پر ان کے گھر میں ایک جگہ پر نماز پڑھی جو بعد میں تبرکا مسجد بنائی گئی۔ اگر اس میں کوئی مشرکانہ رنگ ہوتا تو یقینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی درخواست قبول نہ فرماتے ۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کو جو مدینہ میں ہے ایک خاص امتیاز دیا ہے۔ دنیا میں یادگاروں کی قیمت یہی ہے کہ وہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے زمانہ ماضی کی معنویات زندہ رکھتی ہیں۔ ان کے بغیر ماضی كَانُ لَّمْ يَكُنْ شَيْئًا کا مصداق بن جاتا ہے۔ میرے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمر کی یہ عاشقانہ ادا قابل رشک ہے اور ان کی یہ روایتیں ہمارے لئے تحقیق و تنقیب کا کافی مواد رکھتی ہیں ۔ حضرت عمر کا منع کرنا بھی بے معنی نہیں ۔ عوام الناس اپنے جذبات میں افراط و تفریط کی طرف نکل جاتے ہیں اور حد اوسط پر قائم رہنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت انہوں نے محسوس کیا کہ لوگ افراط کی طرف جارہے ہیں اس لئے انہیں تنبیہہ کی اور ان کی یہ تنبیہہ ہمارے لئے تا قیامت ایک تازیانہ کا کام دیتی رہے گی کہ ان مقامات کو حد سے زیادہ اہمیت دینا محمد رسول اللہ صلی اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپؐ کے منشاء - اور آپ کے منشاء کے خلاف ہے۔ اس بارے میں حد وسط پر رہنا ہی امت کے لئے مبارک ہے۔