صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 589
البخارى- جلد ) ۵۸۹ ٨- كتاب الصلوة اس باب کی پہلی روایت (نمبر ۴۸۳) بطور تمہید کے نقل کی گئی ہے۔تاکہ ان مقامات کے متعلق روایت کا پایہ صحت واضح ہو جائے۔بعد کی روایات میں آٹھ مقامات کا ذکر کیا گیا ہے اور جب کسی مقام کا ذکر شروع ہوا ہے تو الفاظ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ يا أَخْبَرَهُ دُہرائے گئے ہیں۔پہلا مقام ذو الحلیفہ ہے۔جہاں ایک مسجد اب بھی قائم ہے۔مدینہ سے چار میل ہے۔هَبَطَ مِنْ وَادٍ : اس وادی کا نام وادی عقیق ہے۔یہ وادی ذوالحلیفہ میں واقع ہے۔یہی اہل عراق کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ہے۔دوسرامقام وادی بنی سالم میں ہے۔مدینہ اور اس وادی کے درمیان ۳۶ میل کا فاصلہ ہے۔تیسرا مقام شرف الروحاء گاؤں کے پاس تھا۔ملل گاؤں مدینہ سے ایک رات کے فاصلہ پر آتا ہے۔اس کے بعد شرف السیالہ۔اس کے بعد شرف الروحاء۔پھر عرق الطبیہ۔اس پہاڑ پر آپ نے نماز پڑھی۔یہی وہ پہاڑ ہے جو وادی الطبیہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔چوتھا مقام رُوَيْنَہ نامی گاؤں ہے۔یہاں بھی آپ نے قیام فرمایا اور نماز پڑھی ہے۔مدینہ اور اس کے درمیان فاصلہے افرسخ ہے۔روینہ کے معنے ٹھہرنے کی جگہ۔یہاں پانی بھی تھا۔بریدُ الرُّوَيْتَہ سرکاری ڈاک کا پڑاؤ بھی نہیں تھا۔اس مقام کے نیچے دو میل ورے ایک ٹیلہ تھا۔اس ٹیلہ کے دامن سے ہوتے ہوئے کھلے میدان میں آجاتے تھے جہاں سے قافلے گزرتے تھے۔پانچواں مقام عرج کے پرے تھا۔عرج ایک گاؤں کا نام ہے۔یہیں سے تہامہ کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔مدینہ سے ۷۸ میل ہے۔روینہ سے ۳ یا ۴ امیل کے فاصلہ پر ہے۔چھٹا مقام ایک نالہ میں ہوا کرتا تھا۔جو هر شی پہاڑ کے پہلو میں تھا۔ھرشی کے پاس مدینہ اور شام کے راستے ملتے ہیں۔یہ جحفہ مقام کے قریب ہے۔ساتواں مقام مَر الظهر ان کے نالے میں ہوا کرتا تھا۔جس کو بطن مرد بھی کہا کرتے تھے۔یہاں سے مکہ ۶ امیل کے فاصلہ پر ہے۔مر الظهران تہامہ میں ہے۔صفراوات نامی مقام مر الظهر ان کے بعد آتا ہے۔آٹھواں مقام طولی نامی جگہ میں ہوتا تھا جو مکہ کے قریب ہے۔ان آٹھ مقامات میں سے ذوالحلیفہ کی مسجد مشہور ہے۔باقی مساجد کے نشان کا پتہ نہیں۔روحاء مقام کے لوگ بھی بعض جگہوں کا پتہ دیتے ہیں۔جہاں نبی ﷺ نے نماز پڑھی تھی۔مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں ۲۷۰ میل کا فاصلہ ہے۔ان کے درمیان آٹھ پڑاؤ ہوتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ روزانہ تھیں میل سے کچھ زیادہ فاصلہ طے کرتے تھے۔یہ مقامات اگر محفوظ رہتے تو اچھا ہوتا۔ان جگہوں کی تلاش میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی جد و جہد دراصل اس معنوی رابطہ پیدا کرنے کی غرض سے ہوتی تھی جو بالطبع انسان کے دل میں ایسے مقامات پر پہنچ کر یادیں تازہ کرتے ہوئے پیدا ہوتا ہے۔یہ جو روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر نے لوگوں کو دیکھا کہ ایک مقام کی طرف جلدی جلدی جارہے ہیں۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی اور انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا: نماز کا وقت اگر