صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 588
البخاري- جلد ) ۵۸۸ - كتاب الصلوة ٤٩١ : وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ۴۹۱ اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے ان سے أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًی بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ کو آتے تو ذی وَيَيْتُ حَتَّى يُصْبِحَ يُصَلِّي الصُّبْحَ طُوى میں اترا کرتے تھے اور (وہیں) رات گزارتے ، حِيْنَ يَقْدَمُ مَكَّةَ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللهِ یہاں تک کہ آپ کو صبح ہو جاتی اور آپ وہیں صبح کی ذلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيْظَةٍ لَّيْسَ نماز پڑھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نماز گاہ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ وَلَكِنْ ایک پھر یلے ٹیلے پر ہے۔اس مسجد میں نہیں جو کہ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ۔وہاں بنائی گئی ہے بلکہ اس مسجد کے نیچے سخت ٹیلے پر۔اطرافه: ١٧٦٧، ١٧٦٩- ٤٩٢ : وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ :۴۹۲ اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر) نے اُن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ فُرْصَتَي سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف الْجَبَلِ الَّذِيْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيْلِ منہ کرتے ہوئے اس پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کو اپنے نَحْوَ الْكَعْبَةِ فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِي سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے درمیان تھی بُنِيَ ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ اور اس طرح اس مسجد کو جو وہاں بنائی گئی ہے اس مسجد وَمُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بائیں طرف رکھا جو کہ ٹیلہ کے کنارہ پر ہے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ اس سے نیچے کالے أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ تَدَعُ لیلے پر ہے۔تم دس ہاتھ یا اسی کے قریب اس ٹیلے مِنَ الْأَكَمَةِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا ثُمَّ سے چھوڑ دو پھر تم اس پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کی تُصَلَّى مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ طرف منہ کرتے ہوئے نماز پڑھو جو کہ تمہارے اور الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ۔کعبہ کے درمیان ہے۔تشریح: یہ بات مشہور ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو سنت نبوی کی اتباع کا از حد شوق تھا۔اس لئے امام موصوف نے مشار الیہ مقامات کی تعیین و تخصیص کے متعلق انہی کی روایتیں نقل کی ہیں اور ان کا عمل درآمد پیش کیا ہے۔سالم حضرت عبد اللہ بن عمرہ کے بیٹے اور نافع ان کے غلام تھے۔دونوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو ان مقامات میں نماز پڑھتے دیکھا اور دونوں بیان کرتے ہیں کہ وہ فلاں فلاں جگہ نماز پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں نماز پڑھتے دیکھا۔ان مقامات کی تعیین کے متعلق دونوں کا بیان متفق ہے،سوائے شرف الروحاء کے۔گویا