صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 587 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 587

البخارى- جلد ) ۵۸۷ ٨- كتاب الصلوة پڑھتے۔حِجَارَةٍ عَنْ يَمِيْنِ الطَّرِيْقِ عِنْدَ بڑے پتھر ہیں۔یہ راستہ کے دائیں طرف ہیں۔سَلِمَاتِ الطَّرِيْقِ بَيْنَ أُولَئِكَ السَّلِمَاتِ راستے کے پتھروں کے پاس نماز پڑھتے۔ان پتھروں كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوْحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ کے درمیان حضرت عبداللہ دوپہر کو سورج ڈھلنے کے تَمِيْلَ الشَّمْسُ بِالْهَاجِرَةِ فَيُصَلِّي بعد عَرج سے چلا کرتے اور اس مسجد میں ظہر کی نماز الظُّهْرَ فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ۔٤٨٩ : وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ :۴۸۹ اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان سے أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے کے نَزَلَ عِنْدَ سَرَحَاتٍ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ بائیں طرف هر شی سے ورے نالے میں درختوں فِي مَسِيْلٍ دُوْنَ هَرْشَى ذَلِكَ الْمَسِيْلُ کے پاس اُترے۔وہ نالہ ہر شی کے کنارے لَاصِقٌ بِكُرَاعِ هَرْشَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ سے ملا ہوا ہے۔اس کے اور راستہ کے درمیان قریباً الطَّرِيْقِ قَرِيْبٌ مِنْ غَلْوَةٍ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ ایک تیر کی مار ہے اور حضرت عبد اللہ بن عمر ) اس يُصَلِّي إِلَى سَرْحَةٍ هِيَ أَقْرَبُ درخت کے قریب نماز پڑھا کرتے تھے جو کہ اُن السَّرَحَاتِ إِلَى الطَّرِيْقِ وَهِيَ أَطْوَلُهُنَّ درختوں میں سے راستے کے قریب ہے اور وہ ان سب سے لمبا ہے۔۔٤٩٠ : وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ :۴۹۰ اور یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اُن سے عبد أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَنْزِلُ فِي الْمَسِيْلِ بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نالے میں اُترا الَّذِي فِي أَدْنَى مَرِ الظُّهْرَانِ قِبَلَ کرتے تھے جو مَر الظَّهَرَان کے قریب مدینہ کی الْمَدِينَةِ حِيْنَ يَهْبِطُ مِنَ الصَّفْرَاوَاتِ طرف سے آتا ہے جب تم صَفْرَاوَات سے نیچے يَنْزِلُ فِي بَطْنِ ذَلِكَ الْمَسِيْلِ عَنْ اُترتے ہو۔آپ اسی نالے کی وادی میں اُترا کرتے يَسَارِ الطَّرِيْقِ وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّةَ تھے جو راستہ کے بائیں طرف آتا ہے جبکہ تم مکہ لَيْسَ بَيْنَ مَنْزِلِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَبَيْنَ جارہے ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈیرے الطَّرِيْقِ إِلَّا رَمْيَةٌ بِحَجَرٍ۔اور اس راستہ کے درمیان ایک پتھر کی مار ہے۔