صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 586
البخاري - جلد ) DAY - كتاب الصلوة وَوَرَآنَهُ وَيُصَلِّي أَمَامَهُ إِلَى الْعِرْقِ آگے اس چھوٹی پہاڑی کے قریب نماز پڑھا کرتے نَفْسِهِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ تھے اور حضرت عبداللہ رَوْحَاءِ سے چل پڑتے اور الرَّوْحَاءِ فَلَا يُصَلِّي الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ ظہر نہ پڑھتے جب تک اس جگہ نہ پہنچ جاتے۔وہاں جا ذَلِكَ الْمَكَانَ فَيُصَلِّيَ فِيْهِ الظُّهْرَ وَإِذَا کر ظہر پڑھتے اور جب مکہ سے آتے تو اگر صبح سے أَقْبَلَ مِنْ مَّكَّةَ فَإِنْ مَّرَّ بِهِ قَبْلَ الصُّبْحِ ایک گھڑی پہلے یا سحری کے آخر میں اس جگہ سے بِسَاعَةٍ أَوْ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ عَرَّسَ حَتَّی گزرتے تو وہاں اتر کر آرام کرتے۔یہاں تک کہ يُصَلِّيَ بِهَا الصُّبْحَ۔و ہیں صبح کی نماز پڑھتے۔٤٨٧ : وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ :۴۸۷ اور یہ کہ حضرت عبد اللہ نے اُن سے بیان صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ تَحْتَ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستہ کے دائیں طرف سَرْحَةٍ ضَخْمَةٍ دُونَ الرُّوَيْثَةِ عَنْ يَمِيْنِ رُوَيْنَه کے وارے ایک بڑے درخت کے نیچے نرم الطَّرِيْقِ وَوُجَاهَ الطَّرِيْقِ فِي مَكَانٍ بَطْحِ ہموار جگہ میں اور راستہ کے عین مقابل پر ڈیرہ لگایا سَهْلِ حَتَّى يُفْضِيَ مِنْ أَكَمَةٍ دُوَيْنَ کرتے تھے۔پھر آپ ٹیلہ سے جو کہ بَرِیدُ الرُّوَيْتَه بَرِيْدِ الرُّوَيْثَةِ بِمِيْلَيْنِ وَقَدِ انْكَسَرَ سے دو میل درے ہے ، نکل کر کھلے میدان میں آتے أَعْلَاهَا فَانْتَنَى فِي جَوْفِهَا وَهِيَ قَائِمَةٌ اور اب اس درخت کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور عَلَى سَاقٍ وَفِي سَاقِهَا كُتُبْ كَثِيرَةٌ۔درمیان سے مڑ کر دوہرا ہو گیا ہے اور وہ اپنے تنے پر کھڑا ہے اور اس کے تنے میں بہت سے بنتے ہیں۔٤٨٨ : وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ :۴۸۸ اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے اُن سے أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹیلے کے فِي طَرَفِ تَلْعَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْعَرْجِ وَأَنْتَ کنارہ پر بھی نماز پڑھی ہے جو عرج کے پرے آتا ذَاهِبٌ إِلَى هَضْبَةٍ عِنْدَ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ ہے جبکہ تم پہاڑی کی طرف جارہے ہو۔اس مسجد کے قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ عَلَى الْقُبُوْرِ رَضْمٌ مِنْ قریب دو یا تین قبریں ہیں۔ان قبروں پر بڑے