صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 585
البخاري - جلد ) صحيح ۵۸۵ - كتاب الصلوة الْمَكَانَ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي فِيْهِ۔یہاں تک کہ اُس نے اُس جگہ کو دبا دیا جہاں حضرت عبداللہ نماز پڑھا کرتے تھے۔اطرافه: 15٣٢، 1533، 1799۔٤٨٥ : وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ :۴۸۵ اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے ان سے أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں بھی نماز حَيْثُ الْمَسْجِدُ الصَّغِيْرُ الَّذِي دُونَ پڑھی ، جہاں چھوٹی مسجد ہے۔وہ جو کہ اس مسجد سے الْمَسْجِدِ الَّذِي بِشَرَفِ الرَّوْحَاءِ وَقَدْ ورے ہے جو شَرَفَ الرَّوْحَاءِ میں ہے اور كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْلَمُ الْمَكَانَ الَّذِيْ حضرت عبد اللہ اس جگہ کا نشان دیتے تھے، جہاں نبی صَلَّى فِيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔کہتے تھے کہ جب تم يَقُوْلُ ثَمَّ عَنْ يَمِيْنِكَ حِيْنَ تَقُوْمُ فِي مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو تو ( وہ جگہ ) الْمَسْجِدِ تُصَلِّي وَذَلِكَ الْمَسْجِدُ تمہارے دائیں طرف ہوتی ہے اور وہ (چھوٹی ) مسجد عَلَى حَافَةِ الطَّرِيْقِ الْيُمْنَى وَأَنْتَ تمہارے راستہ کے دائیں کنارے پر ہوگی جبکہ تم مکہ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّةَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ کی طرف جا رہے ہو۔اس کے اور بڑی مسجد کے درمیان ایک پتھر کی ماریا اس کے قریب قریب فاصلہ الْأَكْبَرِ رَمْيَةٌ بِحَجَرٍ أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ۔ہے۔٤٨٦ : وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُصَلِّي :۴۸۶ اور حضرت ابن عمر اس چھوٹی پہاڑی کی إِلَى الْعِرْقِ الَّذِي عِنْدَ مُنْصَرَفِ طرف نماز پڑھا کرتے تھے جو روحاء کے موڑ کے الرَّوْحَاءِ وَذَلِكَ الْعِرْقُ انْتِهَاءُ طَرَفِهِ پاس ہے اور اس پہاڑی کا سرا راستہ کے کنارہ پر ختم عَلَى حَافَةِ الطَّرِيْقِ دُونَ الْمَسْجِدِ ہوتا ہے۔اس مسجد سے ذرا ورے جو اس راستے اور الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُنْصَرَفِ وَأَنْتَ موڑ کے درمیان ہے، جبکہ تم مکہ جارہے ہو اور وہاں ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّةَ وَقَدِ ابْتُنِيَ ثَمَّ مَسْجِدٌ ایک مسجد بھی بنائی گئی ہے۔حضرت عبد اللہ اس مسجد فَلَمْ يَكُنْ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي فِي ذَلِكَ میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔اسے اپنے بائیں الْمَسْجِدِ كَانَ يَتْرُكُهُ عَنْ يَسَارِهِ طرف اور پس پشت چھوڑ دیا کرتے تھے اور اس کے