صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page lxiv of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lxiv

صحيح البخارى سم سوم دیباچه (11) اور بعض وقت انہیں اپنی شروط کے مطابق مستند روایت نہیں ملتی تو عنوان باب میں دوسرے محدثین کی روایت کا خلاصہ دے کر اس کے ذیل میں لطیف استدلال سے کام لیا ہے۔(کتاب الحیض بابے) (۱۲) کبھی ایک روایت کے ابہام کا ازالہ دوسری روایت سے کرتے ہیں۔(دیکھیں کتاب الوضوء روایت نمبر ۱۴۶، ۱۵۹،۱۴۷ - کتاب الصلوۃ روایت نمبر ۴۶۶، ۴۶۷) (۱۳) اور کبھی دور وایتوں کو عاطفہ سے جمع کر دیتے ہیں اور اس سے یہ بتلانا مقصود ہوتا ہے کہ ان کے درمیان کوئی تناقض نہیں۔دیکھئے کتاب الحیض باب ۲۶ عنوان باب میں بھی بعض وقت ایک موقوف روایت درج کر کے اسے واؤ عاطفہ سے شروع کیا ہوتا ہے تا اس کا تعلق سابقہ مضمون سے واضح کیا جائے۔(کتاب الوضوء باب ۷۴ ) (۱۴) بہت سی بے معنی اور غلط روایتیں مشہور ہو چکی تھیں جن کی تنقیح و تمحیص کے لئے انہیں باب قائم کرنے پڑے ہیں۔(دیکھئے کتاب الوضوء باب ۱۵۔کتاب الصلوۃ باب ۹۵،۸۷) (۱۵) بابوں اور روایتوں کی ترتیب اور ان کی تقدیم و تاخیر سے امام موصوف نے بہت عمدہ کام لیا ہے اور اس میں لطیف تصرف کر کے مسائل کے متعلق اپنا فیصلہ پیش کیا ہے۔باب کے عنوان کو بظاہر نظر دیکھ کر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید وہ معنونہ مسئلہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ ایسا نہیں بلکہ ان کا مقصد بالکل اور ہوتا ہے۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء باب ۶، ۷، ۲۱،۱۵،۸، ۷۲۷۱۔کتاب الصلوۃ باب ۸۷،۸۳) (۱۶) بعض وقت بابوں کی ترتیب میں منطقی دلیل مضمر کر کے مسئلہ زیر بحث کی وضاحت کرنا مقصود ہوتا۔نا ہے۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء باب ۴۰،۳۹ نیز کتاب الصلوۃ باب ۶۵ تا ۷۴ ) (۱۷) بعض وقت بظاہر نظر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قائم کر دہ باب کا سابقہ یا لاحقہ بابوں سے کوئی تعلق نہیں جس کی وجہ سے شارحین کو مشکل پیش آئی ہے۔مگر در حقیقت ایسے بابوں میں بھی لطیف تعلق مد نظر ہوتا ہے اور بعض وقت ایک باب کو دوسرے کے لئے بطور دلیل کے قائم کرتے ہیں۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب الحیض باب ۱۷۔کتاب الصلوۃ باب ۶۲ ۶۴ ) (۱۸) کبھی امام موصوف بابوں کی طبعی ترتیب کو قصداً آگے پیچھے کر دیتے ہیں تا اس تصرف سے اُن کا مقصد معلوم ہو جائے۔( مثال کے لئے دیکھئے کتاب الحیض باب ۱۶،۱۵۔کتاب الصلوۃ باب ۶۶،۶۵) (۱۹) کبھی بابوں کے تسلسل میں کسی سابقہ باب کے مضمون کو اس لئے دہراتے ہیں تا یہ معلوم ہو کہ زیر بحث مسئلہ میں ان تمام ابواب کا آپس میں تعلق ہے۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب التیم۔باب ۹،۶) (۲۰) امام موصوف نے بالعموم بابوں کے عنوان کسی نہ کسی اختلاف کو مد نظر رکھ کر قائم کئے ہیں اور اس ضمن میں لطیف سے لطیف استدلال کرتے ہوئے مسائل کے متعلق اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔مثال کے لئے دیکھئے (کتاب الصلوۃ باب ۳۲، ۵۱،۳۹) لطیف استدلال کی مثال (کتاب العلم باب (۱۶) میں بھی ملاحظہ ہو۔