صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 580
صحيح البخاري - جلد ) ۵۸۰ - كتاب الصلوة مسجد بنائی جائے تو یہ بھی جائز ہوگا ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۳۰ ) کاروباری لوگوں کے لئے اس میں سہولت رہتی ہے کہ وہ بجائے جامع مسجد میں جانے کے اپنے بازار کی مسجد میں ہی باجماعت نماز پڑھ لیں۔ خصوصاً آجکل جبکہ شہر بہت وسیع ہو چکے ہیں۔ ہر بازار میں اور محلہ بمحلہ مسجدیں بنانے کی ضرورت واضح ہے۔ حنفی ایسی مسجدیں بنانا اور ان میں نماز پڑھنا حرام نہیں بلکہ مکروہ اور جامع مسجد میں سب کا اکٹھے نماز پڑھنا ضروری گردانتے ہیں ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۳۰ ) باب ۸۸ : تَشْبِيْكُ الْأَصَابِعِ فِي الْمَسْجِدِ وَغَيْرِهِ مسجد وغیرہ میں انگلیوں کو قینچی کرنا (یعنی انگلیوں کو ایک دوسرے سے پیوست کرنا ) ٤٧٨-٤٧٩: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ ۴۷۸-۴۷۹:حامد بن عمر نے بشر سے روایت عُمَرَ عَنْ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ حَدَّثَنَا کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ عاصم نے بیان کیا کہ وَاقِدٌ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَوِ ابْنِ واقد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان عَمْرٍو شَبَّكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے باپ نے حضرت ابن عمرؓ سے ؛ یا ابن عمرو سے وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ۔ طرفه: ٤٨٠ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو قینچی کیا۔ ٤٨٠ : وَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَلِيّ حَدَّثَنَا ۴۸۰ اور عاصم بن علی نے کہا: ہم سے عاصم بن محمد عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ هَذَا نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے سنی الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي فَلَمْ أَحْفَظْهُ فَقَوَّمَهُ مگر میں نے اُسے یاد نہ رکھا تو واقد نے مجھ کو یہ لِي وَاقِدْ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حديث صحیح صحیح بتائی۔ انہوں نے اپنے باپ سے وَهُوَ يَقُوْلُ قَالَ عَبْدُ اللهِ قَالَ رَسُولُ روایت کی کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا اور وہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ کہتے تھے: حضرت عبداللہ بن عمرو) نے کہا کہ رسول عَمْرٍو كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيْتَ فِي مُثَالَةِ الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن عمرو! تیرا کیا مِّنَ النَّاسِ بِهَذَا۔ طرفه ٤٧٩ حال ہوگا جب تو اس (حدیث) کے ساتھ ناکارہ لوگوں میں رہ جائے گا۔