صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 581 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 581

البخارى- جلد ) ۵۸۱ ٨- كتاب الصلوة ٤٨١ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى قَالَ :۴۸۱ ہم سے خلاد بن سکی نے بیان کیا، کہا: سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابو بردہ بن عبد اللہ بن ابی اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِهِ عَنْ أَبِي پردہ سے، انہوں نے اپنے دادا سے، ان کے دادا نے مُؤْسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابوموسی سے، حضرت ابوموسیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ فرماتے تھے: قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِن كَالْبُنْيَانِ مومن مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے۔جس کا يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ۔ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کئے رکھتا ہے۔اور آپ نے اپنی انگلیوں کو پیچھی کیا۔اطرافه: ٢٤٤٦، ٦٠٢٦۔٤٨٢ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۸۲ : ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا: ابن شمیل نے ابْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ ہم سے بیان کیا ( کہا ) کہ ابن عون نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے حضرت سِيْرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا ابو ہریرہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ علیہ وسلم نے مغرب وعشاء کی نمازوں میں سے ایک إِحْدَى صَلَاتَي الْعَشِيِّ قَالَ ابْنُ نماز ہمیں پڑھائی۔ابن سیرین کہتے تھے کہ حضرت سِيْرِيْنَ سَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ ابوہریرہ نے اس کا نام لیا تھا لیکن میں بھول گیا۔کہتے نَّسِيْتُ أَنَا قَالَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تھے: آپ نے ہمیں دور کعتیں پڑھائیں۔پھر آپ نے سلام پھیرا اور ایک لکڑی کی طرف اُٹھ کر گئے جو مسجد میں سَلَّمَ فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَّعْرُوْضَةٍ في رکھی ہوئی تھی۔آپ نے اس پر ٹیک لگائی۔(ایسا معلوم الْمَسْجِدِ فَإِنَّكَاً عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ ہوتا تھا) جیسے آپ ناراض ہیں اور آپ نے اپنے دائیں وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ہاتھ کو ہا ئیں پر رکھا اور اپنی انگلیوں ک قینچی کیا اور اپنا دائیاں وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَوَضَعَ خَدَّهُ رخسارا اپنی بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا اور جلد باز لوگ مسجد الْأَيْمَنَ عَلَى ظَهْرٍ كَفِهِ الْيُسْرَى کے دروازوں سے نکل گئے اور کہنے لگے : نماز کم ہوگئی ہے۔اور لوگوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی وَخَرَجَتِ السُّرْعَانُ مِنْ أَبْوَابِ تھے۔مگر دونوں آپ سے بات کرنے میں ڈرے۔اور الْمَسْجِدِ فَقَالُوا قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کے ہاتھ لمبے تھے۔اسے