صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 578
البخارى- جلد ) ۵۷۸ - كتاب الصلوة يَدِينَانِ الدِّيْنَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا کوئی بھی ایسا دن نہیں گزرا کہ جس میں رسول اللہ صلی يَأْتِيْنَا فِيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله علیہ وسلم ہمارے پاس دن کے دونوں وقتوں میں وَسَلَّمَ طَرَفَي النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً ثُمَّ ( یعنی ) صبح شام نہ آئے ہوں۔پھر حضرت ابوبکر کو بَدَا لِأَبِي بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ خیال آیا تو انہوں نے اپنی حویلی کے صحن میں ایک دَارِهِ فَكَانَ يُصَلِّي فِيْهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ مسجد بنائی اور وہ اس میں نماز پڑھا کرتے تھے اور قرآن مجید بھی پڑھا کرتے تھے۔ان کے پاس فَيَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِيْنَ مشرکوں کی عورتیں اور ان کے لڑکے کھڑے ہو جاتے وَأَبْنَاؤُهُمْ يَعْجَبُوْنَ مِنْهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ اور ان سے تعجب کرتے اور ان کی طرف دیکھتے رہتے وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا بَكَاءَ لَّا يَمْلِكُ اور حضرت ابوبکر بہت ہی رونے والے آدمی تھے۔عَيْنَيْهِ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ جب قرآن پڑھتے تو اپنی آنکھوں پر قابو نہ رکھ سکتے أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔تھے تو اس بات نے مشرکین قریش کے بڑے آدمیوں کو گھبرا دیا۔اطرافه: ٢۱۳۸ ، ٢٢٦٣، ۲۲٦٤ ، ۲۲۹۷، ۳۹۰۵، ٤٠۹۳، ۵۸۰۷، ٦۰۷۹۔تشریح: عنوان باب میں حسن بصری اور ایوب سختیانی اور مالک کے فتوی کا حوالہ دے کر اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے جو انہوں نے جمہور سے کیا ہے جن کے نزدیک شارع عام میں بھی مسجد بنانا جائز ہے۔بشرطیکہ لوگوں کو تکلیف یا نقصان نہ پہنچے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۹) امام بخاری نے اس اختلاف کے متعلق روایت نمبر ۴۷۶ کی بناء پر جو رائے ظاہر کی ہے وہ یہ ہے کہ مسجد راستے پر ایسے حصہ میں بنائی جائے جو اپنی ملک ہو اور جولوگوں کی تکلیف یا نقصان کا باعث نہ ہو۔حضرت ابو بکر نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائی تھی۔فناء اس جگہ کو کہتے ہیں جو گھر کے سامنے باہر مختلف اغراض کے لئے خالی چھوڑی جاتی ہے۔ان کے گھر کے اس میدان کے پاس سے شارع عام گزرتا تھا۔عورتیں اور بچے خود بخود کھڑے ہو جاتے اور قرآن مجید سن کر متاثر ہوتے جس سے کفار کوفکر پڑی۔یہ واقعہ کتاب المناقب باب هجرة النبی روایت نمبر ۳۹۰۶) میں مفصل مذکور ہے۔باب ۸۷: الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدِ السُّوْقِ بازار کی مسجد میں نماز پڑھنا وَصَلَّى ابْنُ عَوْنٍ فِي مَسْجِدٍ فِي دَارٍ اور ابن عون نے ایک مسجد میں نماز پڑھی جو ویلی میں يُغْلَقُ عَلَيْهِمُ الْبَابُ۔تھی۔دروازہ لوگوں کے لیے بند کر دیا جاتا تھا۔