صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 577
صحيح البخاری جلد ) ۵۷۷ - كتاب الصلوة الْأُخْرَى وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا۔ اور ابن ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب يَفْعَلَانِ ذَلِكَ ۔ اطرافه: ٥٩٦٩، ٦٢٨٧ تشریح: سے سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ ابوداؤد وغیرہ نے بعض ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن ۔ ہیں جن سے مسجد میں ٹانگیں پیار کر چت لیٹنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔ (کتاب الادب باب ! ، باب فى الرجل يضع احدى رجليه على الأخرى ( اور اس کی وجہ یہ ) اور اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تہہ بند ادھر اُدھر سرکنے سے ننگا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ بہتی اور بغوی وغیرہ محدثین نے اس کی وضاحت کی ہے۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۸) اس روایت کے الفاظ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأخرى سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ احتیاط کی ہوئی تھی کپڑا نہ سرک جائے۔ بعض کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایسا کرنا جائز تھا دوسروں کے لئے جائز نہیں۔ مگر روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلفائے راشدین بھی کبھی اس طرح لیٹ جایا کرتے تھے۔ یہ امر مشہور و معروف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ مجلس میں آ س میں آپ پورے وقار سے بیٹھا کرتے تھے مگر تنہائی میں نماز سے فارغ ہونے پر آرام کرنے کے لئے آپ کبھی لیٹ جاتے اور یہ آداب لیٹ جاتے اور یہ آداب مسجد کے منافی نہیں۔ آداب مجلس و اجتماع اور ہیں اور آداب مسجد اور ۔ ان دونوں میں تمیز نہ کرنے کی وجہ سے اعتراض پیدا ہوا ہے۔ امام ابن حجر نے اس فرق کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۹ ) بَاب ٨٦ : الْمَسْجِدُ يَكُوْنُ فِي الطَّرِيقِ مِنْ غَيْرِ ضَرَرِ بِالنَّاسِ مسجد راستے میں ہو۔ مگر لوگوں کو کوئی تکلیف نہ ہو وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ وَأَيُّوبُ وَمَالِكٌ۔ حسن اور ایوب اور مالک نے یہی فتوی دیا ہے۔ ٤٧٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۴۷۶ : ہم سے کئی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ شہاب سے روایت کی ۔ کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتلایا کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کہتی أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھیں کہ میرے والدین جب سے میں نے ہوش وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا سنبھالی ہے دین (اسلام) کے پابند تھے۔ اور ہم پر