صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 577 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 577

البخاري - جلد ) ٨- كتاب الصلوة الْأُخْرَى وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا۔اور ابن ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے نقل کیا۔انہوں نے کہا کہ حضرت عمر اور حضرت يَفْعَلَانِ ذَلِكَ۔اطرافه: ٥٩٦٩، ٦٢٨٧۔تشریح: عثمان بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ابوداؤد وغیرہ نے بعض ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن سے مسجد میں ٹانگیں پیار کر چت لیٹنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔(کتاب الادب، باب في الرجل يضع احدى رجليه على الأخرى ) اور اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تہہ بند ادھر اُدھر سرکنے سے نگا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔جیسا کہ بیہقی اور بغوی وغیرہ محدثین نے اس کی وضاحت کی ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۸ ) اس روایت کے الفاظ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلى الأخرى سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ احتیاط کی ہوئی تھی کپڑا نہ سرک جائے۔بعض کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایسا کرنا جائز تھا دوسروں کے لئے جائز نہیں۔مگر روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلفائے راشدین بھی کبھی اس طرح لیٹ جایا کرتے تھے۔یہ امر مشہور و معروف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ مجلس میں آپ پورے وقار سے بیٹھا کرتے تھے مگر تنہائی میں نماز سے فارغ ہونے پر آرام کرنے کے لئے آپ کبھی لیٹ جاتے اور یہ آداب مسجد کے منافی نہیں۔آداب مجلس و اجتماع اور ہیں اور آداب مسجد اور۔ان دونوں میں تمیز نہ کرنے کی وجہ سے اعتراض پیدا ہوا ہے۔امام ابن حجر نے اس فرق کی طرف توجہ دلائی ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۹) بَاب ٨٦ : الْمَسْجِدُ يَكُوْنُ فِي الطَّرِيْقِ مِنْ غَيْرِ ضَرَرِ بِالنَّاسِ مسجد راستے میں ہو۔مگر لوگوں کو کوئی تکلیف نہ ہو حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ وَأَيُّوبُ وَمَالِكٌ۔حسن اور ایوب اور مالک نے یہی فتویٰ دیا ہے۔٤٧٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۴۷۶ : ہم سے سجی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتلایا کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کہتی أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھیں کہ میرے والدین جب سے میں نے ہوش وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا سَنبھالی ہے دین (اسلام) کے پابند تھے۔اور ہم پر شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ