صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 576
البخاري - جلد ) ۵۷۶ - كتاب الصلوة اَلْحَلَقُ وَالْجُلُوسُ فِى الْمَسْجِدِ : امام بخاری نے عنوان باب میں حلق (صیغہ جمع ) کا لفظ اختیار کرنے اور اس کو لفظ جلوس پر مقدم کرنے سے اپنے اس مقصد کو واضح کیا ہے جس کے لئے یہ باب باندھا گیا ہے۔امام مسلم نے حضرت جابر بن سمرہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے مسجد میں تشریف لائے اور لوگ ٹولیاں بن کر الگ الگ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے ان کو اس متفرق حالت میں دیکھ کر فرمایا: مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِيْنَ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں ٹولیوں میں دیکھتا ہوں۔(مسلم کتاب الصلوۃ باب الامر بالسكون في الصلاة ) یہ منظر اپنے اندر ایک اجتماعی تفرقہ کی صورت رکھتا تھا۔آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۸ ) امام موصوف نے عنوان باندھتے وقت اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے اور سب سے پہلے ایسی روایتیں لائے ہیں جن کا تعلق وحدت اور توحید کے ساتھ ہے۔آپ کی فطرت کا خمیر توحید سے گندھا ہوا تھا۔اس لئے آپ ہر بات میں وحدت دیکھنا چاہتے تھے اور آپ نے ہر مناسب موقع سے فائدہ اٹھایا ہے کہ جماعت کے اندر وحدت کی روح پیدا ہو اور وہ ایک وحدت بن کر منظم صورت میں نظر آئے۔اس باب کی تینوں روایتوں سے یہی سمجھایا گیا ہے کہ مسجد میں سلیقہ سے بیٹھا جائے۔خواہ امام وعظ و نصیحت کر رہا ہو یا نہ۔وعظ ونصیحت سنے کی حالت میں تو اجتماعی صورت میں بیٹھنا از بس ضروری ہے۔روایت نمبر ۴۷۴ پہلے بھی گزر چکی ہے۔(دیکھئے کتاب الـعـلـم بـاب من قعد حيث ينتهى المجلس۔روایت نمبر ۶۶) اس باب کی دوسری روایت کے آخر میں ولید بن کثیر کا جو حوالہ دیا گیا ہے اس کے متعلق شارحین نے مختلف تو جیہیں بیان کی ہیں کہ اس کے ذکر دیا گیا سے امام موصوف کی کیا غرض ہے (فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۷) بظاہر اس کا تعلق باب کے عنوان سے نہیں لیکن سابقہ باب کے مضمون پر نظر ڈالنے سے اس حوالہ کی غرض و غایت از خود واضح ہو جاتی ہے۔ایسی مثالیں گزر چکی ہیں جن میں کسی روایت کو سَمِعْتُ یا رَأَيْتُ پر ختم کیا گیا ہے بغیر اس کے کہ شنیدہ یا دیدہ بات کو بیان کیا گیا ہو۔(دیکھئے کتاب الوضوء باب ۳۸: المسح علی الخفین روایت نمبر ۲۰۵، باب ۷: البزاق والمخاط نمبر ۲۴۱ کتاب الحیض باب ۵: مباشرة الحائض ) امام موصوف نے اس دستور کے مطابق یہاں بھی تصرف کیا ہے تا ضمنا رفع الصوت کے موقع محل کی طرف توجہ دلائی جائے۔بَاب ٨٥ : الْإِسْتِلْقَاءُ فِي الْمَسْجِدِ وَمَدُّ الرِّجْلِ مسجد میں چیت لیٹنا اور پاؤں کو لمبا کرنا ٤٧٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۴۷۵ ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، تَمِيْمٍ عَنْ عَمِهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُوْلَ اللهِ ابن شہاب نے عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چچا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيَّا فِي سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى وَسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا۔آپ نے