صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 574
صحيح البخاري - جلد ) ۵۷۴ - كتاب الصلوة آدھا قرضہ چھوڑ دو۔ گویا آپ نے جھگڑا ناپسند کیا اور اس میں دخل دیا جس کے لئے آپ کو آواز بلند کرنی پڑی مگر اسی حد تک جو از بس ضروری تھی اور جہاں انشاء ضروری تھی اور جہاں اشارہ سے اپنے مافی الضمیر کو ادا کیا جا سکتا تھا وہاں اشارہ سے ادا کیا۔ خلاصہ یہ کہ مسجد میں عند الضرورة اونچا بولنا بھی جائز ہے۔ مسجد میں ذکر الہی کے لئے ہوتی ہیں اس لیے ہر ایسی بات سے منع کیا گیا ہے جو ذکر الہی میں مخل ہو۔ بَاب ٨٤ : الْحَلَقُ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں حلقے باندھنا اور بیٹھنا ٤٧٢ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۷۲ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: بشر بن مفضل بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید اللہ سے ، عبید اللہ نے نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وہ کہتے تھے: ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ منبر پر تھے کہ رات کی نماز کے متعلق مَا تَرَى فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ قَالَ مَثْنَى مَثْنَى آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: دو دو رکعتیں) اور فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً جب صبح ہونے کا بح ہونے کا ڈر ہو تو ایک ہی رکعت پڑھ لے۔ یہ فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ رکعت جو اُس نے پڑھی ہے اُسے وتر (یعنی طاق ) کر اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا فَإِنَّ دے گی ۔ اور حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ رات النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهِ۔ کے وقت اپنی آخری نماز کو طاق رکھو۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ اطرافه: ٤٧٣ ، ۹۹۰، ۹۹۳، 995، 1137۔ ٤٧٣ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ ۴۷۳ : ہم سے ابونعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ که حماد بن زید ) نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ایوب ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى ہے، ایوب نے نافع ہے، نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ پاس آیا اور آپ خطبہ پڑھ رہے تھے تو اس نے کہا: كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا رات کی نماز کتنی ہو؟ تو آپؐ نے فرمایا: دو دو خَشِيْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ تُوْتِرُ (رکعت) اور جب تمہیں صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک ہی