صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 573 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 573

صحيح البخاري - جلد ) ۵۷۳ - كتاب الصلوة ٤٧١ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ۴۷۱ : ہم سے احمد (بن صالح) نے بیان کیا، کہا: وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ابْنُ يَزِيدَ عَنِ ابن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس بن یزید ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی مَالِكِ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ که عبد الله بن كعب بن مالک نے مجھے بتلایا کہ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنَا لَهُ عَلَيْهِ فِي حضرت کعب بن مالک نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي في صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں حضرت الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى ابن ابی حدود سے اپنے ایک قرضہ کا جو کہ ان کے ذمہ سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھا تقاضا کیا اور ان کی آوازیں اتنی بلند ہوگئیں کہ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُوْلُ اللَّهِ رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیں ۔ حالانکہ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ اپنے گھر میں تھے تو آپ ان کی طرف باہر آئے اور اپنی کوٹھڑی کا پردہ ہٹایا اور پکارا: کعب بن مالک ! اے سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى يَا كَعْبَ بْنَ کعب ! کہا: حاضر یا رسول اللہ ! تو آپ نے اپنے مَالِكٍ ، يَا كَعْبُ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنے قرضہ سے نصف کم کر دو۔ فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ فَاقْضِهِ۔ حضرت کعب نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو۔ اطرافه ٤٥٧ ، ٢٤١٨، ٢٤٢٤، ٢٧٠٦ ، ٢٧١٠۔ تشریح یہ باب بھی ایک اختلاف کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے امام مالک مجھ میں اونچی آواز آواز سے بولنا مطلقاً مکروہ سمجھتے ہیں ۔ مگر بعض نے دینی معلومات حاصل کرنے یا نے یا دینے کے لئے مسجد میں بلند آواز سے بولنے کو مستثنیٰ کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۵ ) ابن ماجہ نے بہت سی روایات جمع کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں بلند آواز سے بولنا نا پسندیدہ امر ہے۔ (ابن ماجه۔ كتاب المساجد باب ما يكره في المساجد ) اس باب کے ذیل میں دو روایتیں لا کر امام بخاری ایک درمیانی راہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ کے واقعہ کی طرف توجہ دلا کر یہ بتلایا ہے کہ آنحضرت مال کے بعد صحابہ کرام کے عمل درآمد سے معلوم ہوتا عليه ہے کہ مسجد میں اونچا بولنانا جائز سمجھا جاتا تھا۔ اس کے لئے کوئی نہ کوئی معقول وجہ ان کے پاس ضرور ہوگی ۔ نبی ﷺ نے بھی ایک موقع پر لین دین کا جھگڑا مسجد میں ناپسند فرمایا اور اس میں دخل دیا۔ حضرت کعب بن مالک کو بلا کر اشارہ سے فرمایا کہ