صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 572 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 572

البخاري- جلد ) ۵۷۲ - كتاب الصلوة تشریح: دُخُولُ الْمُشْرِکِ الْمَسْجِدَ : مسئلہ مذکور کے متعلق بہت اختلاف کیا گیا ہے جس کی بناء یہ آیت ہے: إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا (توبه: ۲۸) ترجمه: مشرکین تو ناپاک ہیں۔پس وہ اپنے اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکیں۔جن فقہاء نے نجس سے معنوی نا پا کی مراد لی ہے اور اس نص صریح کو بیت اللہ کے لئے ہی مخصوص سمجھا ہے۔انہوں نے مشرک کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے۔امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے اور مالکی مطلقا ممنوع سمجھتے ہیں۔شافعی فقہاء اس ممانعت کو بیت اللہ سے مخصوص سمجھتے ہیں۔بعض نے کتابی مشرک اور غیر کتابی مشرک کے درمیان فرق کیا ہے۔مگر تمامہ بن اثال جس کے واقعہ سے یہاں استدلال کیا گیا ہے اہل کتاب میں سے نہ تھا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۲۴) امام بخاری اس مسئلہ کے متعلق خاموش ہیں۔باب ۸۳ : رَفْعُ الصَّوْتِ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں آواز بلند کرنا ٤٧٠ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ ۴۷۰: ہم سے علی بن عبد اللہ بن جعفر بن نجیح مدنی) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا نے بیان کیا، کہا: بیٹی بن سعید (قطان) نے ہم سے الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ حَدَّثَنِي بیان کیا، کہا: بعید بن عبدالرحمان نے ہمیں بتلایا۔يَزِيدُ بْنُ حُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ انہوں نے کہا کہ یزید بن خُصیفہ نے حضرت سائب قَالَ كُنْتُ قَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي بن يزيد سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔وہ رَجُلٌ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ کہتے تھے۔میں مسجد میں کھڑا تھا کہ ایک شخص نے مجھے کنکری ماری۔میں نے (اس کی طرف) نظر اٹھا فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر بن خطاب قَالَ مَنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالَا مِنْ ہیں۔انہوں نے کہا: جاؤ۔ان دونوں کو میرے پاس أَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ لے آؤ۔میں ان دونوں کو لے آیا۔(حضرت عمر الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا نے کہا: تم دونوں کون ہو؟ یا کہا: تم کہاں سے ہو؟ فِي مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا کہ طائف کے باشندوں میں سے ہیں۔کہا: اگر تم اس شہر کے باشندے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وَسَلَّمَ۔مسجد میں تم اپنی آواز میں بلند کرتے ہو۔