صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 571
البخارى- جلد ) - كتاب الصلوة فَلَبِثَ فِيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوْا قَالَ ابْنُ دیر ٹھہرے۔پھر نکلے۔حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے۔میں عُمَرَ فَبَدَرْتُ فَسَأَلْتُ بِلَالًا فَقَالَ جلدی سے آگے بڑھا اور حضرت بلال سے پوچھا تو صَلَّى فِيْهِ فَقُلْتُ فِي أَي قَالَ بَيْنَ انہوں نے کہا کہ آپ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔الْأُسْطُوَانَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَذَهَبَ میں نے کہا: کس جگہ؟ کہا: ان ستونوں کے درمیان۔حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: مجھ سے رہ گیا کہ میں ان عَلَيَّ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى۔سے پوچھوں کہ آپ نے کتنی رکعتیں نماز پڑھی۔اطرافه: ۳۹۷، ٥٠٤، 50٥، 506، 1167، ۱۹۹۸، ۱۹۹۹، ٢٩۸۸، ٤٢٨٩، ٤٤٠٠۔تشریح: باب نمبر ۸۱ میں مسجد کے دروازوں اور تالوں وغیرہ کے متعلق اہتمام کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔یعنی یہ نہ ہو کہ وہ چوپٹ کھلے رہیں جیسے اس کا کوئی والی وارث ہی نہیں ہے۔عنوان باب کی اصل غرض و غایت واضح کرنے کے لئے ہی اس میں بطور تعلیق کے ابن ابی ملیکہ کا حوالہ نقل کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس کی مسجد میں دروازے قابل دید چیز تھی وہ اُن کا خاص اہتمام رکھتے تھے۔یعنی باعتبار صفائی کے اور باعتبار حفاظت کے۔روایت نمبر ۴۶۸ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ فتح مکہ کے زمانہ کا ہے۔اس کی تفصیل کتاب الحج (روایت نمبر ۱۵۹۸، ۱۵۹۹) میں بھی آئے گی۔یہاں اس سے یہ استنباط کیا گیا ہے کہ مسجد کو بند کر کے رکھنا مسجد کے احترام کے خلاف نہیں بلکہ اس کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔باب ۸۲: دُخُولُ الْمُشْرِكِ الْمَسْجِدَ مشرک کا مسجد میں داخل ہونا ٤٦٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۶۹ : ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: لیث نے سعید اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ بن ابی سعید سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُوْلُ بَعَثَ رَسُولُ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار نجد کی طرف نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِّنْ بَنِي حَنِيْفَةَ بھیجے تو وہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو ( پکڑ کر) لے يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ فَرَبَطُوْهُ آۓ۔اسے ثمامہ بن اثال کہتے تھے۔مسجد کے بِسَارِيَةٍ مِّنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ۔ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ انہوں نے اطرافه ٢٤٢٢،٤٦٢، ٢٤٢٣، ٤٣٧٢۔اس کو باندھ دیا۔