صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page lxiii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lxiii

صحيح البخارى ۴۳ دیباچه کبھی مقدر کر دیتے ہیں اور اس کا جواب خود روایتوں کی ترتیب سے واضح ہوتا ہے۔(دیکھئے کتاب الوضوء زیر باب ۳۳: باب اذا شرب الكلب فی الاناء، باب (۶۵) اور کبھی اس کا جواب بعض وجوہات کی بناء پر کھول کر دیتے ہیں۔(کتاب الوضوء باب (۶۹) اور جو جملہ مصدر یہ پر پرمشتمل ہو اُس کے متعلق کبھی خاموشی اختیار کی گئی ہے اور کبھی اس کے ساتھ کھول کر اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے ( کتاب الوضوء باب ۲۷) یا ابواب کے عنوان میں اپنی رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔(کتاب الوضوء باب ۴۳) یا بعض وقت عنوانِ باب کو بطور دلیل کے پیش کیا ہے۔(کتاب الوضوء باب ۷۲ ) اور حرف موصولہ سے جو باب قائم کیا ہے تو اس میں کبھی تو عمومیت کی ایسی صورت مدنظر ہوتی ہے جو مسئلہ کے مخالف یا موافق پہلوؤں کو شامل رکھتی ہے۔(کتاب الوضوء بابا، کتاب الصلوۃ باب ۱۰) یا اس سے کسی خاص بات کی طرف توجہ پھیرنا مقصود ہوتی ہے۔(کتاب الوضوء باب (۵۶) غرض موقع محل کے مطابق اس قسم کے تصرفات سے بہت کام لیا گیا ہے اور قارئین کا فرض ہے کہ وہ اپنے مطالعہ کے اثناء میں عنوانوں کی ترتیب پر نظر رکھیں۔(1) بعض وقت ایک عنوان سے باب قائم کیا گیا ہے۔مگر اس کے ذیل میں جوروایت پیش کی گئی ہے اس کا مفہوم بالکل کچھ اور ہے۔پہلے ہی باب کے عنوان کو دیکھئے کہ بظاہر اس کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس میں وحی کی ابتداء کی کیفیت بتلائیں گے مگر دراصل اس کا موضوع وحی الہی کی ممتاز حیثیت اور اس کی عظمت اور اس کے اُن لوازمات اور خصوصیات کا ذکر کرنا مقصود ہے جو صاحب وحی کے شامل حال اور اس کو خارق عادت اوصاف سے متصف کرتی ہیں۔عنوان سے جو موضوع بظاہر نظر ذہن میں آتا ہے اس کے لئے کتاب فضائل القرآن میں ایک الگ باب بعنوان گیف نُزُولُ الْوَحْيِ وَأَوَّلُ مَانَزَلَ قائم کیا گیا ہے۔(اس قسم کی مثالوں کے لئے دیکھئے کتاب العلم باب ۴۱،۲۲۱۶ اور کتاب الوضوء باب ۷۵ ) (۷) کبھی آپ باب کا عنوان محض روایت کی تشریح کرنے کے لئے باندھتے ہیں۔جیسا کہ اس سے قبل اس کی ایک مثال دی جا چکی ہے اور دوسری مثال کے لئے دیکھئے ( کتاب الصلوۃ باب ۹۹) (۸) بعض اوقات امام موصوف باب کا کوئی عنوان قائم نہیں کرتے۔بلکہ اس میں ایک روایت لاتے ہیں اور یہ اس وقت کرتے ہیں جب اس باب کا تعلق سابقہ یا لاحقہ باب کے مضمون کے ساتھ ظاہر کرنا مقصود ہو۔( مثال کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء باب ۵۷) (۹) یا کبھی محض لفظی یا معنوی اشتباہ سے بچانے کے لئے عنوان قائم کیا گیا۔(دیکھئے کتاب الوضوء باب ۶۔کتاب الغسل باب ۶ ) (۱۰) اور بعض وقت امام موصوف ایسی روایت جو ان کے نزدیک مستند ہے۔مگر اس میں نہایت اختصار ہوتا ہے اور اس کی تفصیل کسی اور روایت میں ہے جو دوسرے آئمہ کے نزدیک مستند ہے تو آپ عنوانِ باب میں ان کی روایت کے مضمون کا خلاصہ درج کر کے اپنی مستند روایت کو الگ متن میں نقل کرتے ہیں۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب الحیض باب ۱۳ روایت ۳۱۴)