صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 569
البخارى- جلد ) ۵۶۹ ٨- كتاب الصلوة هُوَ الْعَبْدُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا قَالَ يَا اس نے جو اللہ (عزوجل) کے پاس ہے اسے پسند کر أَبَا بَكْرٍ لَّا تَبْكِ إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي لیا ہے۔( تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ تھے اور حضرت ابوبکر ہم سے زیادہ علم رکھتے تھے۔مُتَّخِذًا خَلِيْلًا مِّنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ آپ نے فرمایا: ابوبکر مت رو۔یقیناً تمام لوگوں سے أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ بُڑھ کر مجھ پر احسان کرنے والا بلحاظ اپنی رفاقت اور لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ إِلَّا اپنے مال کے ابو بکر ہی ہے۔اگر میں نے اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا۔لیکن بَابُ أَبِي بَكْرٍ۔اطرافه: ۳۹۰٤٣٦٥٤ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ عَاصِبًا اسلام کی برادری اور محبت ہی ہے۔مسجد میں کوئی دروازہ ندہ رہنے دیا جائے، بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازہ کے۔٤٦٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۶۷ : ہم سے عبد اللہ بن محمد بعضی نے بیان کیا، کہا: الْجُعْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ میرے باپ نے مجھے بتلایا۔کہا: میں نے یعلی بن حَكِيْمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حکیم سے سنا۔انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں کہ جس میں آپ فوت ہوئے تھے، باہر آئے۔آپ نے اپنے سرکو (اپنے) کپڑے سے باندھا ہوا تھا۔آپ منبر پر اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور ستائش کی۔پھر النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ فرمایا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں جو بلحاظ اپنی مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ جان اور مال کے مجھ پر ابوبکر بن ابوقحافہ سے بڑھ کر مُتَخِذَا مِّنَ النَّاسِ خَلِيْلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا احسان کرنے والا ہو۔اگر میں نے لوگوں میں سے رَّأْسَهُ بِخِرْقَةٍ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ