صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 568 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 568

صحيح البخاری جلد ) ۵۶۸ - كتاب الصلوة باب (۷۹) بلا عنوان قائم کیا ہے جس میں ایک خارق عادت امر کا ذکر ہے جو دو صحابیوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ تاریک رات کا وقت تھا۔ روشنی کا کوئی سامان نہ تھا اور خارق عادت طور پر ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سلوک ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر کتاب المناقب باب سؤال المشركين ان يريهم النبي آية نمبر ۳۶۳۹ ، باب منقبة اسيد بن حضير نمبر ۳۸۰۵) میں بھی آئے گا اور وہاں اس کی نوعیت پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔ یہ امر کہ اس باب کا تعلق یہاں صرف استثنائی حالتوں کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ ہے اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ باب مذکور کے معا بعد پہلا باب جو قائم کیا گیا ہے اس میں پھر ایک استثنائی حالت کا ذکر ہے : لا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سَدَّ إِلَّا بَابُ أَبِي بَكْرٍ (نمبر ۴۶۶) مسجد میں کوئی دروازہ نہ رہنے دیا جائے بند کر دیے جائیں سوائے حضرت ابوبکر کے دروازہ کے سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ ( نمبر ۴۶۷) حضرت ابوبکر کی کھڑکی کے سوا باقی سب کھڑکیاں مسجد میں بند کر دی جائیں۔ انہیں وہ خصوصیت اور امتیازی حیثیت حاصل تھی جو دوسروں کو نہ تھی۔ اس لئے ان کے ساتھ خاص سلوک کیا گیا۔ ایسا ہی حضرت سعد بن معاذ اور حضرت ثمامہ بن اثال کے ساتھ بھی۔ اس لئے ان کے واقعات کی بناء پر مسائل میں توسع اختیار کرنا جائز نہیں۔ باب ۸۰ : الْخَوْخَةُ وَالْمَمَرُّ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں کھڑ کی اور گزرگاہ (رکھنا ) ۔ فلي ٤٦٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ ۴۶۶ : ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا: صبیح نے حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنْ ہم سے بیان کیا، کہا: ابونضر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نے عبيد بن حسين ن سے، عبید نے بسر بن سعید سے، سے ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ بر نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں کو ) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مخاطب کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا کو لے یا اس کو لے جو اللہ کے مَا عِنْدَ اللَّهِ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ پاس ہے تو اس نے جو اللہ کے پاس ہے اس کو پسند کیا عَنْهُ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي مَا يُبْكِيْ هَذَا ہے۔ اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رو پڑے تو میں الشَّيْخَ إِنْ يَكُنِ اللَّهُ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ نے اپنے دل میں کہا: اس بزرگ کو کون سی بات رُلا الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللهِ رہی ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے بندے کو دنیا یا جو اُس کے فَكَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس ہے پسند کرنے کے متعلق اختیار دیا ہے اور پھر