صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 567 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 567

صحيح البخارى جلد ) ۵۶۷ ٨- كتاب الصلوة باب ۷۹ ٤٦٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۴۶۵ : ہم سے محمد بن منی نے بیان کیا، کہا: معاذ بن قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي ہشام نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ بتلایا۔انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ انہوں نے رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہا: ہم سے حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ عليه وسلم کے صحابہ میں سے دو شخص ایک تاریک رات صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {أَحَدُهُمَا عَبَاد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے۔[ان ابْنُ بِشْرٍ وَ أَحْسِبُ الثَّانِيَ أُسَيْدَ بْنَ میں سے ایک حضرت عباد بن بشر تھے اور دوسرے میں سمجھتا ہوں حضرت اُسید بن حضیر تھے اور ان کے حُضَيْر فِي لَيْلَةٍ مُّظْلِمَةٍ وَّمَعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَيْنِ يُضِيْنَانِ بَيْنَ أَيْدِيْهِمَا فَلَمَّا ساتھ دو چراغ جیسے تھے جو اُن کے سامنے روشنی کر رہے تھے۔جب وہ دونوں جدا ہوئے تو اُن میں سے افْتَرَقَا صَارَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ ہو گیا آخر وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے۔وَاحِدٌ حَتَّى أَتَى أَهْلَهُ۔اطرافه: ٣٦٣٩ ٣٨٠٥ تشریح: باب ۷۹ بغیر عنوان کے باندھا گیا ہے۔جب بھی امام بخاری ایسا کرتے ہیں تو اس سے یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ اس باب کا تعلق ماقبل اور مابعد کے بابوں کے ساتھ ہے۔امام موصوف نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ بغیر اس کے کہ اپنی طرف سے کوئی الفاظ بڑھائیں مسائل کے متعلق ان کی رائے بھی ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی جائے۔اس امر میں انہوں نے اس قدر احتیاط سے کام لیا ہے کہ باب کے جو عنوان قائم کیے ہیں، ان کے الفاظ بھی حتی الوسع روایات سے اخذ کئے ہیں اور بسا اوقات ابواب کو خاص ترتیب دے کر اپنا مقصد سمجھا گئے ہیں۔اس کی مثالیں بہت گزر چکی ہیں۔یہاں بھی اس قسم کے تصرف سے کام لیا گیا ہے۔باب ۶۷ سے لے کر باب ۸۰ تک ایسے مسائل کا ذکر ہے جن کے جواز یا عدم جواز کا دارو مدار خاص حالات و ضرورت وقت پر ہے۔مثلاً ابتدائی زمانہ میں جب قیدیوں اور بیماروں کے لئے علیحدہ عمارتیں نہ تھیں اور بعض خاص آدمیوں کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ ان کے لئے خاص اہتمام کیا جائے تو اس صورت میں مسجد کو ان کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔غرض ان تمام مسائل میں استثنائی صورت کی طرف توجہ دلانے کے لئے امام موصوف نے ایک ایسا ناموں کی یہ وضاحت بعض دوسرے نسخوں میں ملتی ہے۔(دیکھے صحیح بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ۔آرام باغ۔کراچی)