صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 566
صحيح البخاري - جلد ) ۵۶۶ ٨- كتاب الصلوة باب ۷۸ : إِدْحَالُ الْبَعِيْرِ فِي الْمَسْجِدِ لِلْعِلَّةِ کسی ضرورت کی وجہ سے اونٹ مسجد میں لے آنا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور حضرت ابن عباس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے) اُونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيْرِ۔٤٦٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۴۶۴: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بن عَبْدِ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے محمد بن عبدالرحمان الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بن نوفل سے، انہوں نے عروہ بن زبیر ) سے ،عروہ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ نے حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے، حضرت زینب قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّی نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی۔کہتی تھیں: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِيْ قَالَ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ طُوْفِي مِنْ وَّرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ میں بیمار ہوں۔آپ نے فرمایا کہ تم سوار ہو کر لوگوں فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے پیچھے طواف کر لو۔چنانچہ میں نے طواف کیا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔آپ "وَالطُّورِ وَ كِتَابِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّوْرِ وَكِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ۔مَّسْطُورٍ“ پڑھ رہے تھے۔اطرافه ١٦١٩، ١٦٢٦، ١٦٣٣، ٤٨٥٣ تشریح عنوان باب میں حضرت ابن عباس کا جو حوالہ نقل کیا گیا ہے وہ ابوداؤد کی ایک روایت سے لیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے۔آپ کو بیماری کی تکلیف تھی تو آپ نے اپنی سواری پر ہی طواف حج کیا۔(سنن ابی داؤد۔کتاب المناسک۔باب الطواف الواجب) مسلم کتاب الحج میں بھی اس کا ذکر ہے۔وہاں حضرت جابز کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی غرض یہ تھی کہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور مسائل پوچھ سکیں۔(مسلم، کتاب الحج، باب جواز الطواف على بعير) امام بخاری نے اسی وجہ سے عنوان باب میں لِلعِلةِ کا جملہ اختیار کیا ہے جو بیماری پر بھی دلالت کرتا ہے اور اس کے علاوہ اور وجوہات پر بھی۔طواف حج کے لئے مسجد حرام میں سے گزرنا پڑتا ہے اس سے بعض نے یہ استنباط کیا ہے کہ عند الضرورت مسجد میں سواری کو لے آنا آداب مسجد کے منافی نہیں مگر بعض علماء نے یہ شرط لگائی ہے کہ پیشاب وغیرہ سے مسجد کے ملوث ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔