صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 565
البخارى- جلد ) ۵۶۵ ٨- كتاب الصلوة بَاب :۷۷ الْخَيْمَةُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَرْضَى وَغَيْرِهِمْ مسجد میں بیماروں وغیرہ کے لئے خیمہ لگانا ٤٦٣ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى قَالَ ۴۶۳ : ہم سے زکریا بن یحیی نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عبدالله بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے هِشَامٌ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ہمیں بتلایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے أُصِيْبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِي الْأَكْحَلِ باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔کہتی تھیں کہ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت سعد کو خندق کے دن ہفت اندام میں زخم لگا خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُوْدَهُ مِنْ قَرِيْبٍ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خیمہ لگایا، تا کہ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِّنْ آپ قریب ہی سے ان کی عیادت کریں اور مسجد میں بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيْلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا بنو غفار کا بھی خیمہ تھا۔تو ریکا یک خون نے ان کو گھبرا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِيْنَا مِنْ دیا جو کہ ان کی طرف بہہ کر آرہا تھا۔انہوں نے کہا: قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْدُو جُرْحُهُ دَمًا خیمہ والو! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے ہمارے پاس آ رہا ہے۔تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سعد ہیں۔ان کا فَمَاتَ فِيْهَا۔اطرافه ۲۸۱۳، ۳۹۰۱، ١١٧، ٤١٢٢۔تشریح زخم خون سے بہہ رہا ہے اور وہ اسی سے فوت ہوئے۔جیسا کہ بتلایا جا چکا ہے کہ مسجد نبوی کا محن وسیع تھا۔حضرت سعد بن معاذ جنگ خندق میں زخمی ہو گئے تھے۔یہ جلیل القدر صحابہ میں سے تھے۔جنگ میں نمایاں کام کیا تھا۔آپ نے مسجد کے صحن میں اُن کا خیمہ لگوا دیا تاکہ ان کی تیمارداری بخوبی ہو سکے۔اس وقت اس غرض کے لئے علیحدہ کوئی عمارت نہ تھی۔اس مجاہد کی تیمار داری کے لئے مسجد کے ایک حصہ کو بحالت مجبوری استعمال کیا گیا۔مگر اس سے عام اجازت کا مسئلہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔یہ مثالیں سابقہ مسئلہ کی وضاحت کے لئے دی جارہی ہیں۔