صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 564
البخاری جلد ) ۵۶۴ - كتاب الصلوة ٤٦٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ :۴۶۲ : ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ أَبِي لیث نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن ابوسعید نے سَعِيْدٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ ہمیں بتلایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف کچھ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيْفَةَ يُقَالُ لَهُ سوار بھیجے تو وہ بنو حنیفہ میں سے ایک شخص کو جسے ثمامہ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ فَرَبَطُوْهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ بن اثال کہا جاتا تھا ( پکڑ کر ) لے آئے اور اُسے سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَطْلِقُوْا تُمَامَةَ دیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس باہر آئے اور فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِ قَرِيْبٍ مِّنَ الْمَسْجِدِ فرمايا: ثمامہ کو چھوڑ دو تو وہ مسجد کے قریب ہی فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ کھجوروں کی طرف چلا گیا اور نہایا۔پھر وہ مسجد میں آیا أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ اورکہا: میں اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔اطرافه: ٤٦٩ ٢٤٢٢، ٢٤٢٣، ٤٣٧٢۔تشریح: چونکہ سابقہ استدلال ایک اعتبار سے قابل اعتراض تھا اور واقعہ مذکور میں وہ وضاحت نہیں جومسئلہ استنباط کرنے کے لئے ضروری ہے اس لئے امام بخاری نے ایک الگ مستقل باب قائم کیا ہے اور اس کے ضمن میں ثمامہ بن اثال کا واقعہ مختصر النقل کیا ہے۔یہ شخص قبیلہ بنی حنیفہ کا سردار تھا اور آپ کا سخت دشمن تھا۔لڑائی میں شکست کھا کر قید ہو گیا تھا۔آپ نے مسجد میں اس کو چند دن قید رکھا۔وہ نمازوں کی کیفیت دیکھتا رہا۔قرآن مجید سننے کا بھی اُسے موقع ملا اور ایسا ہی آپ کے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بھی دیکھا۔جس سے وہ متاثر ہوا آخر آزاد ہونے پر خود بخود اپنی مرضی سے مسلمان ہو گیا اور اُس کی قوم بھی مسلمان ہوگئی۔کوئی دینی مصلحت یا اہم غرض مد نظر رکھتے ہوئے مسجد میں کسی کو نظر بند یا قید رکھنا مسجد کے آداب کے منافی نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مصلحت کو مد نظر رکھ کر شمامہ کو مسجد میں قید رکھا تھا۔چنانچہ مسلمانوں کی عبادت کا نمونہ دیکھ کر وہ متاثر ہوئے۔شارحین نے یہ استدلال کیا ہے کہ سابقہ باب میں جو اسیر یا غَرِیم باندھنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ثمامہ بن اثال ہی ہیں۔(عمدۃ القاری جزء رابع صفحه ۲۳۵) مگر جمله ربط الأَسِيرِ أَيْضًا فِي الْمَسْجِدِ ان کے اس استدلال کے خلاف ہے۔لفظ ایضاً اشارہ کرتا ہے کہ یہاں کسی اور قیدی کے باندھنے کا ذکر ہے اور یہ کہ کشفی نظارہ اور واقعہ مذکورہ دونوں مل کر فتوی کی تائید کرتے ہیں۔