صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 563 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 563

البخاري - جلد ) ۵۶۳ - كتاب الصلوة آپ کی وفات کے بعد آپ کا بیٹار بعام تخت پر بیٹھا۔یہ شخص جسم بلا روح تھا۔اس کے زمانہ میں وہ تمام فتنے بڑے زور سے نمودار ہو گئے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں دبے رہے اور وہ سرکش اور اجنبی قو میں جن کو آپ نے غلام بنا لیا تھا بنی اسرائیل کی غلامی سے نکل گئیں۔(۱۔سلاطین، باب ۹، آیت ۲۱) مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِی کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ پھر ان کے بعد بنی اسرائیل کو وہ شان و شوکت کبھی نصیب نہیں ہوئی۔اس دعا کا خیالی جنوں کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں کہ یہ سمجھا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال پیدا ہوا کہ جنوں کو مسخر کرنا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے خاص تھا۔مجھے جن کو مسخر نہیں کرنا چاہئے اور نہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے غیر مرئی جنوں کو لوہے کی زنجیروں میں کبھی جکڑ ا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کشف کے یہ معنے تھے کہ شیطان آپ کو آپ کے فرضِ منصبی سے روکنے کے لئے جنگ کی صورت میں عداوت کی آگ بھڑکائے گا اور آپ کے برخلاف سرکش اجد قبائل کو اکسائے گا۔فَامْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ: مگر آپ اس پر قابو پائیں گے۔فَرَدَّهُ خَاسِئًا : وہ اپنے اس حملہ سے ذلیل ہو کر لوٹے گا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے مغلوب شدہ قوموں کو غلام بنا لیا تھا جو آخر دم تک ان کی غلامی میں رہیں۔یہ ایک حضرت سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت تھی اور ان کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ ایسا کریں۔کشفی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن مشیت الہی کے ماتحت اس طرف منتقل کیا گیا کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فَدَتَهُ نَفْسِی نے اپنے مغلوب دشمن کو کبھی غلام نہیں بنایا۔اہل مکہ جو اپنی شدید ترین دشمنی اور بھیانک مظالم کی وجہ سے نیز جنگی قوانین کی رو سے اس غلامی کے مستحق تھے انہیں بھی لَا تَقرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (يوسف : ۹۳) کہہ کر آزاد کر دیا اور ان میں سے بعض تو اسلام میں داخل ہو گئے اور جو اپنے مذہب پر رہے اُن کو آزاد امن پسند رعایا کے حقوق عطا کئے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض انسان کو انسانوں کے بندھنوں سے چھڑا ناتھی (الاعراف: ۱۵۸) مزید شرح کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۱۲۱۔یہ اصلیت اور حقیقت ہے اس روایت کی۔امام بخاری نے اس کشف پر مسئلہ معنونہ کی بنیاد رکھی ہے۔فقہاء خواب یا کشف کی بناء پر فقہی مسئلہ کی بنیا د رکھنا جائز نہیں سمجھتے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ امام موصوف کے نزدیک ایسا جائز ہے۔چنانچہ باب الہ میں بھی انہوں نے کشفی نظارہ سے مسئلہ مستنبط کرنے میں مدد لی ہے اور یہ اس وقت جبکہ دیگر قرائن بھی مؤید ہیں۔بَاب ٧٦ : الْاِغْتِسَالُ إِذَا أَسْلَمَ وَرَبْطُ الْأَسِيْرِ أَيْضًا فِي الْمَسْجِدِ جب اسلام میں داخل ہو تو غسل کرنا نیز مسجد میں قیدی کا باندھنا وَكَانَ شُرَيْحٌ يَأْمُرُ الْغَرِيْمَ أَنْ يُحْبَسَ اور شریح قرض دار کو مسجد کے ستون سے باندھنے کا حکم إِلَى سَارِيَةِ الْمَسْجِدِ۔دیا کرتے تھے۔