صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 562 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 562

البخاري - جلد ا ۵۶۲ ٨- كتاب الصلوة ایک شعلہ لے کر آیا تا وہ اس کو میرے منہ کے سامنے کرے۔میں نے تین بار اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور پھر اس کو قید کرنا چاہا۔اگر ہمارے بھائی سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ ایسا بندھا ہوا ہوتا کہ مدینہ کے بچے بھی اس کے ساتھ کھیلتے۔اس روایت نے واضح کر دیا ہے کہ اِنَّ عِفْرِيْتًا مِّنَ الْجِنِّ سے کیا مراد ہے۔وہ شیطان تھا اور ظاہر ہے کہ شیطان کا دیکھنا عالم کشف سے تعلق رکھتا ہے۔ایک تیسری روایت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ نظارہ ایک رات مکہ معظمہ میں بھی دکھایا گیا جب آپ کو معراج و اسراء ہوا تھا۔اس روایت کے یہ الفاظ ہیں: قَالَ ( ﷺ) رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِكَ بِي عِفْرِيْنَا مِنَ الْجِنِّ يَطْلُبُنِى بِشَعْلَةٍ مِّنْ نَّارٍ كُلَّمَا الْتَفَتُ إِلَيْهِ رَأَيْتُهُ۔(عمدة القاری جزء ۴ صفحه ۲۳۴) ترجمه: آپ نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے جنوں میں سے ایک شیطان دیکھا، وہ آگ کا ایک شعلہ میرے سامنے کرتا، جب بھی میں اس کی طرف توجہ کرتا، اسے دیکھ لیتا۔} رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسرِى بِی کا قرینہ صاف بتلاتا ہے کہ یہ نظارہ اس قسم کے روحانی مشاہدات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جن میں سے اسراء کا مشہور و معروف واقعہ بھی ہے۔حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو درداء کی روایتیں دو الگ الگ واقعات کے متعلق معلوم ہوتی ہیں جو مدینہ منورہ میں آپ کو بحالت نماز پیش آئے اور لَيْلَةُ الْإِسْرَاء کا واقعہ الگ ہے۔اس واقعہ سے مدینہ منورہ والے دونوں واقعوں کی نوعیت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح از قبیل مکاشفات تھے۔اگر ليلة الإسراء کے واقعہ کی روایت ہمارے سامنے نہ بھی ہوتب بھی ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظارہ ایک کشف کی صورت میں دکھلایا گیا تھا۔آپ کی زندگی میں اس کی مثالیں اور بھی ملتی ہیں۔(دیکھئے شرح باب ۵۱ : من صلى و قدامه تنور او نار نمبر ۴۳۱) اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ شیطان ارواح میں سے ہے۔وہ جب بھی نظر آتا ہے تو کسی نہ کسی شکل میں متمثل ہو کر نظر آتا ہے۔بخاری اور مسلم کی مذکورہ بالا روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت گھنونی شکل کا تھا۔غرض بیرونی شہادتوں سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہ ایک کشف ہے جس کا تعلق مابعد کے واقعات کے ساتھ تھا اور یہ کہ وہ حرف بحرف پورا ہوا۔خود اس روایت کے اندر بھی ایسے قرائن موجود ہیں جو اس کو کسی دوسرے واقعہ پر چسپاں کرنے سے روکتے ہیں۔ان قرائن میں سے مثلاً ایک بڑا قرینہ یہی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا ہے جو آپ نے ایک عظیم الشان فتنے کے اثناء میں کی تھی۔قرآن مجید اس فتنہ کی طرف اشارہ بایں الفاظ فرماتا ہے: وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَنَ وَالْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَه قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِى وَهَبْ لِي مُلْكًا۔۔۔(ص: ۳۵-۳۶) ترجمہ: اور یقیناً ہم نے سلیمان کو آزمایا اور ہم نے اس ( کی سلطنت) کے تخت پر ( عقل و شعور سے عاری ) ایک جسد پھینک دیا۔تب وہ (اللہ ہی کی طرف) جھکا۔( اور ) کہا : اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھے ایک ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد اُس پر اور کوئی نہ بیچے۔} حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس فتنہ کا احساس اپنی زندگی میں ہی کر لیا تھا۔یعنی یہ کہ آپ کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے ریشہ دوانیاں ہورہی ہیں جس پر آپ نے اس فتنہ سے محفوظ رہنے کی دعا کی۔ا۔سلاطین، باب ۱۱، آیت ۱۲۸ اور ۳۵)