صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 561 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 561

صحيح البخاری جلد ا ۵۶۱ - كتاب الصلوة وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عِفْرِيْنَا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا کہ کل عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَّحْوَهَا لِيَقْطَعَ رات جنوں میں سے ایک عفریت مجھ پر ٹوٹ پڑا، یا عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ فَأَرَدْتُ ایسا ہی کوئی اور کلمہ (فرمایا) تا کہ میری نماز توڑ دے۔ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الله تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا۔ میں نے چاہا الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ کہ مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے اُسے كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ باندھ دوں تا کہ تم صبح اٹھو اور سب اس کو دیکھو۔ پھر رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنْبَغِي مجھے میرے بھائی سلیمان کا قول یاد آیا رب اغفرلی لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي (ص: ٣٦) قَالَ رَوْحٌ فَرَدَّهُ خَاسِئًا ۔ اطرافه: ۱۲۱۰ ، ٣٢٨٤، ٣٤٢٣، ٤٨٠٨۔ وَهَبْ لِي مُلْكًا ۔۔۔ الآية، اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعد کسی کو بھی سزا وار نہ ہو۔ روح کہتے تھے کہ آپ نے اسے دھتکار دیا۔ تح: عفریت کے منی خبیث کمروہ عمل ۔ رَجُلٌ عِفْرِي : گھناؤنی شل کا آدمی۔ لفظ جن بھی جنگی وحشی آدمی پر بولا جاتا ہے۔ زید بن مقبل کی روایت میں جِنَّانُ الْجِبَالِ سے شَيَاطِينُ الا نُسِ ہی مراد ہیں یعنی فسادی شر بر طبع لوگ ۔ ( دیکھئے لسان العرب تحت لفظ جنن - نيز كتاب بدء الخلق شرح باب ذِكْرُ الْجِنِّ) سوره سبا آیت ۱۳-۱۵ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جنوں کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کی تشریح سورہ ص میں باتیں الفاظ کی گئی ہے: وَالشَّيطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَ غَوَّاصٍ وَاخَرِينَ مُقَرَّ نِينَ فِي الْأَصْفَادِه (ص: ۳۸-۳۹) اور شیاطین کو بھی (یعنی) ہرفن تعمیر کے ماہر اور غوطہ خور کو۔ اور ( بعض ) دوسروں کو بھی جنہیں زنجیروں میں جکڑا گیا تھا۔} سورة الانبياء : ۸۳ میں بھی یہی مضمون ہے اور ان شیطانوں سے مراد وہ شریر اور مفسد تو میں ہیں جن کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے مغلوب کر کے ان سے بیت المقدس کی تعمیر اور جہاز رانی وغیرہ کے کام لئے تھے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے:۔ (۲- تواریخ باب ۲۔ آیت : ۱۴-۱۸) ، (۱- سلاطین باب ۹- آیت: ۲۰-۲۸ ) ، ( تفسیر علامہ ابو مسعود ) انبیاء کی آسمانی بادشاہت اور اس کی تکمیل مسیح موعود کے ہاتھ سے مصنفہ حضرت سید زین العابدین - صفحه ۵۸-۶۷) روایت نمبر ۱ ۴۶ میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ کشف ہے جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے اور پوری تفصیل کے ساتھ پورا ہو۔ حضرت ابو درداء جو کہ باعتبار صحت روایت کے طبقہ اول میں ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ بایں الفاظ بیان کرتے ہیں: إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ اِبْلِيْسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِّنْ نَّارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۔۔۔۔ ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةً أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوْثِقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ۔ (مسلم كتاب المساجد باب جواز لعن الشيطان في اثناء الصلوۃ) یعنی اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا