صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 561
ری جلد ا ۵۶۱ ٨- كتاب الصلوة وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عِفْرِيْنَا مِّنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا کہ کل عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَّحْوَهَا لِيَقْطَعَ رات جنوں میں سے ایک عفریت مجھ پر ٹوٹ پڑا، یا عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ فَأَرَدْتُ ایسا ہی کوئی اور کلمہ ( فرمایا ) تا کہ میری نماز توڑ دے۔أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِّنْ سَوَارِي الله تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا۔میں نے چاہا الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوْا إِلَيْهِ کہ مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے اُسے كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ باندھ دوں تا کہ تم صبح اٹھو اور سب اس کو دیکھو۔پھر رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنْبَغِى مجھے میرے بھائی سلیمان کا قول یاد آیا رب الفسفولی وَهَبْ لِي مُلكًا۔۔۔الآية۔اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعد کسی کو بھی سزا وار نہ ہو۔روح کہتے تھے کہ آپ نے اسے دھتکار دیا۔لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي (ص: ٣٦) قَالَ رَوْحٌ فَرَدَّهُ خَاسِنًا۔اطرافه ۱۲۱۰، ۳۲۸۴، ٣٤٢٣، ٤٨٠٨۔تشریح: عفریت" کے معنی خبیث مکروہ شکل۔رَجُلٌ عِفْرِیتُ : گھناؤنی شکل کا آدمی۔لفظ جن بھی جنگلی وحشی آدمی پر بولا جاتا ہے۔زید بن متقبل کی روایت میں جِنَّانُ الْجِبَالِ سے شَيَاطِينُ الإِ نُسِ ہی مراد ہیں یعنی فسادی شر می طبع لوگ۔(دیکھئے اسان العرب تحت لفظ جنن - نیز کتاب بدء الخلق شرح باب ذِكْرُ الْجِنِّ) سورۃ سبا آیت ۱۳-۱۵ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جنوں کا جوذ کر کیا گیا ہے اس کی تشریح سورہ حق میں باتیں الفاظ کی گئی ہے: وَالشَّيطِيْنَ كُلَّ بَنَّاءٍ وغَوَّاصِ وَاخَرِيْنَ مُقَرَّ نِينَ فِي الْأَصْفَادِهِ (ص: ۳۸-۳۹) اور شیاطین کو بھی (یعنی) ہر فن تعمیر کے ماہر اور غوطہ خور کو۔اور ( بعض ) دوسروں کو بھی جنہیں زنجیروں میں جکڑا گیا تھا۔} سورۃ الانبیاء : ۸۳ میں بھی یہی مضمون ہے اور ان شیطانوں سے مراد وہ شریر اور مفسد قو میں ہیں جن کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے مغلوب کر کے ان سے بیت المقدس کی تعمیر اور جہاز رانی وغیرہ کے کام لئے تھے۔تفصیل کے لئے دیکھئے:۔(۲- تواریخ باب ۲۔آیت : ۱۴-۱۸ ) ، (۱- سلاطین باب ۹- آیت: ۲۰-۲۸ ) ، ( تفسیر علامه ابو مسعود) انبیاء کی آسمانی بادشاہت اور اس کی تکمیل مسیح موعود کے ہاتھ سے مصنفہ حضرت سید زین العابدین صفحه ۵۸-۶۷) روایت نمبر ۴۶ میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ کشف ہے جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے اور پوری تفصیل کے ساتھ پورا ہو۔حضرت ابو درداء جو کہ باعتبار صحت روایت کے طبقہ اول میں ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ بایں الفاظ بیان کرتے ہیں: إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَّارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِيَ فَقُلْتُ أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ۔۔۔ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ اَخِيْنَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوْتِقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ۔(مسلم) كتاب المساجد باب جواز لعن الشيطان في اثناء الصلوۃ) یعنی اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا