صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page lxii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lxii

صحيح البخ دیباچه فتاوی بخاری کی بنیاد : (۳) آپ کے زمانہ میں نام نہاد فقہاء نے غلط منطق اور فلسفہ کی مدد سے مسائل در مسائل پیدا کر کے شریعت اسلامیہ کے احکام کی اصل شکل وصورت مسخ اور ان سے عملی پہلو کو نہایت مشکل بنادیا ہوا تھا۔مگر خدا بھلا کرے امام محمد بن اسماعیل بخاری کا جنہوں نے ان مسائل کے بودہ پن اور لغویت سے نقاب اٹھا کر شریعت اسلامیہ کی اصل صورت و شکل کو نمایاں کیا۔آپ نے اپنے فتاوی کی بناء صحت عقیدہ ، خلوص نیت اور سہولت عمل پر رکھی ہے۔کتاب الایمان میں ایمان اور عمل کی بحث کے دوران آپ نے ایک باب الدِّينُ يُسر باندھا ہے۔( باب نمبر (۲۹) جہاں تک میں نے غور کیا ہے آپ نے مسائل اخذ کرنے میں اسی قاعدہ کو مسائل کے جانچنے میں معیار و تک قرار دیا ہے اور یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے امام مالک کی رائے کا اکثر ذکر کیا ہے۔کیونکہ ان کا تفقہ بھی سیدھا سادہ تھا۔امام موصوف کے زمانہ میں فقہاء کی دو بڑی بڑی ٹولیاں بن چکی تھیں۔ایک اہل حجاز جو امام مالک اور امام شافعی کے قول میں سے کسی ایک کو حجت قرار دیتے اور دوسرے اہل عراق و بصرہ جو امام ابو حنیفہ یا امام احمد بن حنبل کے قول کو۔امام بخاری نے ان فقہاء کے مذاہب پر اس خوبی سے تنقید کی ہے کہ عموما بغیر کسی کا نام لئے ان کی رائے کی غلطی یا صحت کی طرف خاموشی سے توجہ منعطف کی ہے۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء باب ۳۹،۳۸،۳۴، ۵۷ اور ۵۸) البتہ کتاب الحیل میں ایسے اشارے پائے جاتے ہیں کہ جن سے ان کی ناراضگی اور تلخی کا پتہ چلتا ہے اور اس میں وہ حق بجانب تھے۔(۴) بابوں کے عنوان کے متعلق ایک اور خاص بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ان کے الفاظ اختیار کرنے میں بھی غیر معمولی فکر و تدبر اور احتیاط سے کام لیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ایک ایک لفظ اپنے ساتھ فقہ کی مجمل تاریخ رکھتا ہے۔اس کی مثالیں شرح میں بکثرت دیکھیں گے۔لیکن سر دست بات سمجھنے کے لئے آپ کتاب الوضوء باب 9 کا عنوان جس میں فقہاء کے بعض اختلافات کو مد نظر رکھ کر لفظ عند استعمال کیا گیا ہے۔( نیز دیکھئے کتاب الصلوۃ باب ۳۳۳۲) 66 (۵) ایسا ہی بعض جگہ باب کا عنوان ” هَلُ" سے اور بعض جگہ " مَنْ “ سے شروع کیا ہے اور بعض جگہ "ما " موصولہ سے اور کبھی باب کا عنوان جملہ اسمیہ رکھا ہے اور کبھی فعلیہ اور کبھی مصدریہ۔بابوں کے عنوان میں یہ مخصوص تصرف عین موقع محل کی مناسبت سے اور مسئلہ زیر بحث کے پیش نظر اپنی معین رائے کے اظہار کی غرض سے کیا گیا ہے۔”مل“ ( حرف استفہام) سے جو باب قائم کیا گیا ہے اس میں زیادہ تر صورت استفتائی مد نظر ہوتی ہے۔(دیکھئے کتاب الحیض بابا کتاب الصلوۃ باب ۴۸۴۱) اور جو باب ”من“ سے شروع ہوتا ہے اس میں اس کا جواب معین اشخاص کو مد نظر رکھتے ہوئے استدلالی صورت میں روایتوں کے انتخاب اور اس کی ترتیب میں مقدر ہوتا ہے۔(دیکھئے کتاب العلم باب ۱۲ ۱۳ ۲۴، ۳۰،۲۹ اور کتاب الوضوء باب ۱۲، ۱۶، ۳۷) اور جس باب کا عنوان جملہ فعلیہ یا اسمیہ پر مشتمل ہو اس میں کسی مسئلہ کے متعلق فیصلہ بالجزم پایا جاتا ہے۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء باب ۳۶،۲۱،۴،۲، ۷۱ ) سوائے اس کے کہ اس میں خبر مقدر ہو۔جیسے کتاب الوضوء باب ۳۳ کے عنوان میں کی گئی ہے۔ایسا ہی (ذا “ سے باب شروع کر کے اس کے جواب کو